بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرزی شہرتربت سے پاکستانی فورسزہاتھوں ایک نوجوان لاپتہ ہوگیا جبکہ خاران سے لاپتہ نوجوان 9برس بعدبھی بازیاب نہ ہوسکا۔
تربت سے فورسز2 افراد کو حراست بعد اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔
تربت میں جمعرات کے روز پاکستانی سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکار2 نوجوانوں کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے۔
نوجوانوں کی جبری گمشدگی کا واقعہ تربت آبسر میں کولوائی بازار میں موجود دکان میں پیش آیا فورسز نے ظریف بلوچ اور طاہر بلوچ نامی دو نوجوان کو حراست میں لے لیا۔
اطلاعات کے مطابق فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے بعد طاہر بلوچ منظرعام پر آکر بازیاب ہوگئے جبکہ ظریف بلوچ تاحال لاپتہ ہے۔
دوسری جانب خاران میں سرچ آپریشن کے دوران جبری گمشدگی کے شکار محمود شاہ 9 برس مکمل ہونے کے بعد بھی بازیاب نہیں ہوسکا۔
خاران کے تحصیل مسکان قلات کے علاقہ حسن آباد کے رہائشی محمود شاہ ولد سلطان شاہ 9 برسوں سے پاکستان کے غیر قانونی اور غیر انسانی عقوبت خانوں میں بند مسلسل ناقابل برداشت اذیتیں سہہ رہا ہے۔
فیملی ذرائع کے مطابق پیرا ملٹری فورس نے 11 آگست 2014 کو سرچ آپریشن کے نام پر محمود شاہ کیساتھ دیگر افراد، نجیب حسین زئی اور بابو حسن، کو جبراً لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ تاہم، محمود شاہ کیساتھ جبری گمشدگی کے شکار مذکورہ بالا افراد بعدازاں بازیاب ہوگئے مگر محمود شاہ تاحال پاکستان کے قائم کردہ انسانیت سوز عقوبت خانوں میں اذیتیں سہہ رہا ہے اور جس کا کوئی پرساں حال نہیں کہ وہ کس حالت میں ہے۔
خیال رہے کہ فوج نے 11 آگست 2014 کو سرچ آپریشن کے دوران دوسرے علاقوں حُراؤ سے بھی کچھ افراد کو جبراً اغوا کیا تھا۔ تاہم، وہ بھی بعدازاں بازیاب ہوگئے اور اپنے اہل خانہ کے پاس آ پہنچے۔ تاہم، محمود شاہ 9 سالوں کے بعد بھی بازیاب نہیں ہوا ہے۔
محمود شاہ کی 9 سالوں سے جبری گمشدگی کے باعث اس کا اہل خانہ انتہائی پریشان اور نفسیاتی طور پر کوفت زدہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کی فیملی نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیئے حتی الامکان کوششیں کی، تمام دروازوں کو کھٹکھٹائے مگر کسی کے بھی کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اس لیئے، انھوں نے آخر میں تمام مکتب فکر سے منسلک افراد سے عاجزانہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اخلاقی اور انسانی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ان کے بیٹے کی باحفاظت بازیابی کیلئے کماحقہ آواز اٹھائیں تاکہ وہ جلد از جلد رہا ہوسکے اور ان کی زندگی سے دکھ، درد اور تکلیف کے شام خوشی اور راحت کے صبح میں بدل جائے۔