جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما عارف وزیر ہفتے کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
وانا کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) عثمان خان نے ان کی موت کی تصدیق کی۔
واضح رہے کہ حملے کے بعد انہیں علاج کے لیے اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ قبل ازیں ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ جمعہ کو عارف وزیر پر وانا کے قریب غواہ خواہ میں ان کے گھر کے باہر گاڑی میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی۔
عارف وزیر کو گولی لگنے سے شدید زخم آئے تھے اور وہ تشویشناک حالت میں تھے۔ ابتدائی طور پر انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن بعد ازاں علاج کے لیے انہیں اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔
واضح رہے کہ عارف وزیر رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کے کزن ہیں۔
عارف وزیر کی شہادت کے بعد پشتون قوم میں شدید غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے،سوشل میڈیا میں واضح طور پر پشتون نسل کشی کے خلاف پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو بتایا جا رہا ہے، جب نوجوانوں کی جانب سے پشتونستان کی آزادی کو لے کر مسلح جدوجہد کی بھی باتیں ہو رہی ہیں