امداد جویو کا قتل اور لواحقین پر پولیس کی لاٹھی چارج قابل مذمت ہے،بلوچستان بار کونسل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان بار کونسل نے جھل مگسی میں گذشتہ روز زمین کے تناع پر قتل ہونے والےکسان امداد جویو کے قتل اور لواحقین پر پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ جویو فیملی جھل مگسی میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف کئی سال سے آواز بلند کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جویو فیملی گزشتہ کئی سالوں سے اسلام آباد پریس کلب انسانی حقوق کیلئے احتجاج کرتی رہی۔ اورکسان امداد کے بیٹی ارباب جویو نے جاگیردارانہ نظام کے خلاف تاریخی احتجاج کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے پولیس ریاستی ادارے مقامی کسانوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرنے والی ارباب جویو کے والد کو قتل کردیا گیاہے۔

انہوں نے کہا کہ کسان امداد جویو کے لواحقین امداد جویو کی لاش نصیر آباد لیجانا چاہتے تھے لیکن جعفرآباد پولیس کی جانب سے خواتین بچوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ظہیر بلوچ اعجاز بلوچ اور قادر نصیب سمیت متعدد سماجی کارکن گرفتار کئے گئے ہیں۔ کسان امداد جویو کی لاش ان کی بیٹی رکشہ کے ذریعے لے جا رہی تھی ہے۔

بار کونسل نے کہا کہ محکمہ صحت جعفرآباد و اوستہ محمد کے ملازمین نے ایمبولینس گاڑی دینے سے انکار کردیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مسئلے پر بلوچستان حکومت کی خاموشی قابل مذمت ہے ۔ جاگیردارانہ نظام کے خلاف صحافی سماجی تنظیمیں اور ہر طبقہ آواز بلند کریں۔

بار کونسل کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج جویو فیملی کا بنیادی حق ہے جسے نصیرآباد انتظامیہ کی جانب سےبزور طاقت روکنا قابل مذمت ہے۔ پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج کرنے والوں پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

Share This Article
Leave a Comment