بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھاربار ش وسیلاب سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔خاران، واشک ،ہرنائی و بسیمہ میں ہزاروں گھر تباہ ہوگئے ۔ اب تک 7 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
خاران سے ملنے والی رپورٹ کےمطابق گزشتہ روز عصر کے بعد شہر میں ہونے والے شدید بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث ہزاروں گھر منہدم ہوگئے۔ سینکڑوں خاندان گزشتہ رات سے بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑے ہیں۔سیلابی پانی سے متاثر ہونے والوں میں قریب تمام خاندانوں کا تعلق غریب محنت کش طبقے سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز بمورخہ 25 جولائی کو عصر کے بعد شروع ہونے والے شدید بارش کے چند ہی گھنٹوں میں خاران کے تمام ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی کے سخت بہاو نے مغرب اور عشاء تک شہر کو تین اطراف سے وسیع پیمانے پر تباہ کردیا۔ پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا جس کے باعث کئیں سو گھروں کے نشانات تک مٹ گئے، جبکہ ہزاروں مکانات ڈھیر ہونے اور چاردیواریاں گرنے کی وجہ سے ناکارہ حالت میں ہیں۔کُلان، محلہ علم خیلان ،مدینہ ٹاؤن ،گزی روڈ، یاسین گز، سمیت متعدد مقامات انتہائی متاثر ہوچکے ہیں۔
خاران سے ذرائع نے بتایا کہ شہر میں رات کو ضلعی انتظامیہ یا پولیس و لیویز کی جانب سے ریسکیو نہ ہونے کے برابر تھی اور تاحال لوگ بغیر کسی ریلیف و کمک کے اپنی مدد آپ کے تحت فقط اپنی اور اپنے معصوم بچوں کی جانیں بچانے کی کوشش میں ہیں۔ہمارے سروے کے مطابق شہر میں تباہ ہونے والے سب سے زیادہ مکانات ان غریب محنت کش اور مزدور طبقے کے ہیں جنہوں نے زندگی بھر کی جمع پونجی سے شہر میں زمین خرید کر آٹھ، دس سال محنت مزدوری کرکے تین چار کمروں کے کچے مکان بنانے میں کامیاب ہوئے۔
اس حوالے سے ایک ذرائع نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک گھر جوکہ مکمل تباہ ہوچکا تھا اور اس گھر کے تمام اشیاء بھی پانی کے ساتھ بہہ چکے تھے۔ ایک عورت نے حواس باختہ ہوکر پانی میں جانے کی کوشش کی جسے روک لیا گیا۔ مزکورہ عورت نے کہیں مہینوں محنت کرکے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے اپنے ہاتھوں سے درجنوں بلوچی کپڑے تیار کیے تھے جوکہ سیلابی پانی میں بہہ گئے تھے۔مکانات کے علاوہ سالوں محنت کرکے جمع کی گئی قیمتی اشیاء، خون پسینے سے بچیوں کی شادی کیلئے خریدے گئے زیورات اور دیگر اثاثے سب پانی کے بے رحم موجوں کی نظر ہوگئے۔اس صورتحال میں ابھی تک ضلعی انتظامیہ، افسر شاہی اور کٹھ پتلی منتخب سیاسی نمائندوں کی کنٹریبیوشن زیرو ہے۔
بلوچستان بھر کے رپورٹس کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث سیلابی ریلے کی زد میں آکر 50 سے زائد کچے مکانات گر گئے، متاثرین کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
اس کے علاوہ بسیمہ میں طوفانی بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی کے باعث کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے جبکہ ڈیرہ مرادجمالی میں بارش اورلینڈ سلائیڈنگ کے باعث پیرہ سے ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے کشمور جانے والی سڑکیں بند ہوگئیں۔
ایکسین ایری گیشن کے مطابق ناڑی بینک سے 32 ہزار کیوسک،دریائے گھگی سے 6 ہزار 612 کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جبکہ ربی کینال سے 2 ہزار کیوسک سیلابی ریلہ داخل ہوگیا۔
بلو چستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے دوران مزید 2افراد ہلاک اور 200سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ۔
محکمہ پی ڈی ایم اے کی جا ری کر دہ رپورٹ کے مطابق بدھ کو بلو چستان کے مختلف اضلاع میں جا ری مون سون کی بارشوں کے دوران کیچ میں سیلابی ریلے میں بہہ جا نے سے ایک شخص جبکہ خضدار میں بھی آسمانی بجلی گر نے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
محکمہ پی ڈی ایم اے کے مطابق ہرنائی میں سیلابی ریلے میں 6افراداور بار کھان میں ایک شخص سیلابی ریلے میں بہہ گیا جنہیں لیویز نے ریسکیو کر کے زندہ بچالیا ۔
رپورٹ کے مطابق 19جون سے جا ری بارشوں میں اب تک 7افراد ہلاک جبکہ 13زخمی ہو چکے ہیں ۔