ایچ آئی وی کی پہلی ویکسین کو فروخت کی اجازت دیدی گئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

برطانوی دوا ساز کمپنی کے مطابق یورپین میڈیسن ایجنسی نے ان کی تیار کردہ ایچ آئی وی ویکسین اور گولیوں کو یورپ بھر میں فروخت کرنے کی تجویز دے دی۔

برطانوی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس ایک) نے رواں برس فروری میں اپنی ویکسین کے نتائج بتائے تھے، جن میں خطرناک وائرس کے کم ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

دوا ساز کمپنی نے پہلے ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے والی گولیوں ’کیبوٹیگرور‘ ( cabotegravir) کے ہی فارمولے سے ویکسین تیار کی تھی، جسے مریضوں کو ہر دو ماہ بعد لگایا جاتا ہے۔

کمپنی نے اپنے نتائج میں بتایا تھا کہ ویکسین کی آزمائش کے لیے 670 رضاکاروں پر ایک سال تک آزمائش کی اور تمام رضاکاروں کو ہر دو ماہ بعد ویکسین کا ایک ڈوز دیا گیا۔

جن رضاکاروں پر تحقیق کی گئی تھی وہ تمام ایچ آئی وی کے مریض تھے اور ایک سال بعد ان کے مرض کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ان کی بیماری کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔

کمپنی کی تحقیق کے نتائج کے بعد اب یورپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے مذکورہ ویکسین کو یورپ بھر میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یورپی ایجنسی نے ویکسین کی آزمائش کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد اسے یورپ بھر میں فروخت کرنے کی اجازت دی۔

یورپی ایجنسی نے ویکسین کو ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی موثر قرار دیا۔ مذکورہ ویکسین اگرچہ ’کیبوٹیگرور‘ ( cabotegravir) دوائی سے بنائی گئی ہے، تاہم اسے ’اپریٹیوڈ‘ (Apretude) کے نام سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

مذکورہ ویکسین محفوظ جنسی تعلقات رکھنے والے 35 کلو گرام وزن یا اس سے زائد وزن رکھنے والے افراد کو لگائی جاتی ہے۔

مذکورہ ویکسین کا مقصد ایچ آئی وی کے وائرس سے محفوظ رکھنا ہے، تاہم یہ ایچ آئی وی ہوجانے کے بعد اس کے اثرات کم نہیں کر سکتی البتہ اسے بڑھنے سے روکتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment