بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ منی پور کے واقعے نے ملک کو شرمسار کر دیا ہے۔اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔
وزیر اعظم مودی نے پارلیمان کے باہر نامہ نگاروں سے رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا، "میں پورے ملک کو یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ منی پور کی بیٹیوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اسے کبھی بھلایا نہیں جائے گا۔”
وزیر اعظم مودی نے کہا، "میں جمہوریت کے اس مندر کے باہر کھڑا ہو کر کہہ رہا ہوں کہ میرا دل غم اور غصے سے پھٹا جارہا ہے۔ منی پور کا واقعہ کسی بھی مہذب ملک کے لیے شرمناک ہے۔ پورا ملک اس واقعے پر شرمسار ہے۔”
انہوں نے کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میں تمام وزرائے اعلیٰ سے اپنی اپنی ریاستوں میں بالخصوص ہماری ماؤں اور بہنوں کے حوالے سے امن و قانون کو سخت کرنے کی اپیل کرتا ہوں، خواہ وہ راجستھان ہو یا چھتیس گڑھ یا منی پور۔ ہمیں بھارت کے ہر کونے میں سیاست سے اوپر اٹھ کر ہولناک جرائم کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔”
واضع رہے کہ منی پور میں اقلیتی مسیحی قبائلیوں اور اکثریتی ہندو میتئی فرقے کے درمیان ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تشدد پر وزیر اعظم مودی نے پہلی مرتبہ بیان دیا ہے۔
میانمار کی سرحد سے ملحق شمال مشرقی بھارت کی اس ریاست میں دو خواتین کی مبینہ اجتماعی ریپ اور انہیں برہنہ پریڈ کرانے کے واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مودی حکومت پر دباو بڑھ گیا ہے۔
خواتین کو سینکڑوں افراد کی موجودگی میں برہنہ پریڈ کرانے کا واقعہ حالانکہ چار مئی کو پیش آیا تھا لیکن اب تک صرف ایک شخص کو گرفتار کیا جا سکا ہے۔
منی پور میں اقلیتی مسیحی قبائلیوں اور اکثریتی ہندو میتئی فرقے کے درمیان تشدد کا سلسلہ گوکہ تین مئی سے جاری ہے جس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں لیکن وزیر اعظم مودی نے اس پر اب تک خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ اپوزیشن جماعتیں ایک عرصے سے وزیر اعظم مودی سے اس پر بیان دینے کا مطالبہ کر رہی تھیں لیکن انہوں نے 77 دنوں کے بعد آج پہلی مرتبہ اس پر بیان دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ 20 جولائی کو پارلیمان کا اجلاس شروع ہوا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کو منی پور سمیت متعدد معاملات پر گھیرنے کا اعلان کیا ہے اس لیے وزیر اعظم کو مجبوراً بیان دینا پڑا۔