بلوچستان کے ضلع کوہلو میں مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ میں ماہانہ لاکھوں روپے جبکہ سالانہ کروڑوں روپے کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے محکمہ کو ہر دو ماہ کے بعد بلڈوزرز کے تیل کی مد میں تقربیاً ماہانہ12000 لیٹرکے مد میں بھاری رقم جاری کئے جاتے ہیں جو زمینداروں کو ریلیف کے بجائے لاکھوں روپے محکمے کے آفیسر کے جیبوں اور ذاتی لوازمات میں خرچ ہوتے رہے ہیں جس سے محکمہ کے آفیسر کی ملی بھگت سے جہاں تیل کی مد میں حکومت کے دئیے ہوئے لاکھوں روپے کرپشن کی نظر ہورہے ہیں وہی کسانوں کو بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے جس کی وجہ سے ضلع میں محکمہ ایم ایم ڈی بجائے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے زمینداروں کے لئے درد سر اور متعلقہ آفیسر کےلئے اے ٹی ایم مشین بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اگر ان تمام خطیر رقم کا اندازہ لگایا جائے تو یہ کروڑوروں روپے سے بھی تجاویز کرکے اربوں روپے بنتی ہے جس سے ناصرف عوام کے ٹیکس سے ملنے والے کرڑوروں روپے ذاتی شاہ خرچیوں کی نظر ہوگئے ہیں بلکہ محکمہ ایم ایم ڈی کوہلونے حکومت بلوچستان اور بالا آفیسران کو چونا لگایاہوا ہے کوہلو کے زمینداروں کے مطابق ان سے گزشتہ کئی سال سے حکومتی ریٹ کے بجائے اضافی پیسے بجائے بینک کے یہ آفیسران بائی ہاتھ لیتے رہے ہیں جبکہ اگران کی مرضی کے پیسے انہیں نہیں دئیے جائیں تو آفیسران ہمیں کئی ماہ تک بلڈوزرز فراہم نہیں کرتے ہیں اور کئی بہانے بناتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ کو چند افراد نے یرغمال بنایا ہوا ہے زمینداروں نے بتایا کہ محکمہ کے آفیسر کے اکاوئٹ یا ہاتھ میں پیسے نہیں دئیے جائیں تو وہ کئی ماہ تک بلکہ کئی سال تک بلڈوزر فراہم نہیں کرتے۔
کوہلو کے زمینداروں اور عوامی حلقوں نے نیب بلوچستان ،اینٹی کرپشن بلوچستان،چیف سیکرٹری بلوچستان ،وزیر اعلی بلوچستان ، وزیر میر نصیب اللہ مری،سیکرٹری محکمہ زراعت سمیت دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ محکمہ کے فوری طور پر کئی سالوں کا ریکارڈ طلب کرکے اربوں روپے کا احتساب سمیت متعلقہ آفیسروں کی جانچ پڑتا بھی کی جائے تاکہ عوام کے ٹیکس کے دئیے گئیں اربوں روپے کا حساب ممکن ہوسکے اور مزید محکمے میں کرپشن کے دروازے بند ہوسکیں ۔