امریکا کا خلیج میں ایف سولہ طیارے بھیجنے کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ نے خلیج کی اسٹرٹیجک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو ایرانی قبضے سے بچانے کے لیے ایف سولہ جنگی طیارے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک سینئر دفاعی عہدیدار نےجمعے کو پینٹاگون کے نامہ نگاروں کو اس سلسلے میں بتایا کہ امریکہ اس ہفتے کے آخر میں خلیجی علاقے میں جنگی طیاروں کے استعمال کو بڑھا دے گا۔ خطے میں پہلے ہی A-10 حملہ آور امریکی لڑاکا طیارے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے گشت کر رہے ہیں۔

خلیج میں ایف سولہ طیارے بھیجنے کا امریکی اقدام ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے ہرمز کی اہم سمندری گزرگاہ کے قریب دو آئل ٹینکرز کو قبضے میں لینے کی کوشش اور ان میں سے ایک پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اٹھایا جارہا ہے۔

نام نہ ظاہر کر نے کی شرط پر دفاعی اہلکار نے کہا کہ ایف سولہ طیارے آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کو فضائی تحفظ فراہم کریں گے اور علاقے میں عسکری موجودگی ایرانی کارروائیوں کو روکنے کا اظہار ہوگی۔

اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ میں ایران، روس اور شام کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تشویش ہے۔

امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ مذکورہ دونوں واقعات میں ایرانی بحریہ کے جہاز اس وقت پیچھے ہٹ گئے تھے جب اس کا "گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس میک فال” جائے وقوعہ پر پہنچ گیا تھا۔

امریکی دفاعی اہلکار کے مطابق امریکہ شام کی فضاؤں پر بڑھتی ہوئی روسی جارحیت سے نمٹنے کے لیے کئی فوجی آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے ان آپشنز کی تفصیل بتائے بغیر کہا کہ امریکہ کوئی علاقہ نہیں چھوڑے گا اور ملک کے مغربی حصے میں داعش گروپ کے خلاف مشن کی پروازیں جاری رکھے گا۔

امریکی عہدیدار نے بتایا کہ روس کی عسکری سرگرمیاں ماسکو ،تہران اور شامی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں جن کا مقصد امریکہ کو شام سے نکلنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔

شام میں اس وقت تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں جب کہ دیگر فوجی داعش گروپ کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے والے مشنوں کو چلانے کے لیے آتے جاتے رہتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment