بحرہ بلوچ میں غیر قانونی فشنگ : پاکستان نے 50 کروڑ ڈالرکے فشریز مصنوعات برآمدکرلیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی فشنگ کے نتیجے میں پاکستان نے پہلی مرتبہ 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی فشریز مصنوعات برآمدکرلیں۔

کہا جارہا ہے کہ گزشتہ مالی سال مئی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کوششوں کے تحت پاکستان نے پہلی مرتبہ 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی فشریز مصنوعات برآمد کرلیں۔

پاکستان کے وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں سال مئی میں پاکستان نے 12 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی مچھلیاں اور ماہی پیداوار دنیا کو فروخت کیں ہیں۔

محکمہ میری ٹائم افیئرز کی ٹاسک فورس کے چیئرمین عاصم ابرار کا کہنا تھا کہ ہماری ماہی پیداوار کی 60 فیصد خریداری چین کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی فریم ورک کی مدد سے نجی شعبہ پیداوار کو ویلیو ایڈ کی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے زرمبادلہ اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ستمبر میں چین کو مچھلی بیچنے کے لائسنسز کی معیاد پوری ہوئی تو حکومت پاکستان کے وزارت میری ٹائم افیئرز ڈپارٹمنٹ نے اس کی تجدید میں نجی شعبے کی معاونت کی، نتیجے میں مئی کی ماہی برآمدات 82 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت میری ٹائم کا میرین فشریز ڈپارٹمنٹ ٹاسک فورس کی بھرپورمعاونت کررہا ہے، ٹاسک فورس وفاق اور صوبائی سرکاری اداروں کے درمیان رابطے استوار کررہا ہے جس سے صنعتی شعبہ سازگارماحول میں پھل پھول رہا ہے۔

عاصم ابرار کا کہنا تھا کہ ماہی برآمدات بڑھانے کیلئے پیداوار بڑھانے اور پیداوار کی ویلیو ایڈیشن میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری ٹائم ٹاسک فورس سمجھتی ہے کہ معیشت پر سیاسی اتفاق ہوجائے تو دنیا اسے پاکستان سے سرمایہ کاری کرنے کا پیغام سمجھے گی۔

واضع رہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر ، پسنی ، اورماڑہ ، جیونی ، پیشکان، سر بندر، ڈام ، گڈانی ، سونمیانی ، وندرو دیگر چھوٹے ماہیگیر بستیاں بحرہ بلوچ میں غیر قانی فشنگ کیخلاف سراپااحتجاج ہیں ۔گوادر میں حق دو تحریک کی جانب سے بڑی اور طویل دھرنادیا گیا جس میں غیر قانونی ٹرالنگ کی فوری بندش کا مطالبہ کیا گیا مگر حکومت نے طاقت کے زور پر دھرنے پر حملہ کیا ، گولیاں چلائیں ، گرفتاریاں کیں۔

ماہیگیروں کا کہنا کہ حکومتی سرپرستی میں بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی فشنگ کی جارہی ہے جس میں سندھ کے ٹرالرز سمیت چین کی بڑے بڑے فشنگ ٹرالرز ملوث ہیں ۔

واضع رہے کہ سوشل میڈیا پر متعدد ایسی ویڈیوز موجود ہیں جہاں چین اور دیگر ٹرالرز غیر قانونی فشنگ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment