جون کا مہینہ تھا گرمی اپنی شدت میں اور رمضان المباراک بھی چل رہا تھا، سبھی اپنے دین و دنیا میں مگن تھے۔ گاؤں میں سبھی اپنے کاموں میں مصروف تھے، بچے کھیل میں اپنا وقت خوشی سے گزار رہے تھے ، زمیندار اپنے کھیتوں کی حفاظت میں ، چرواہے اپنی بکریاں چرا رہے تھے، ہر کوئی اپنی دنیا میں خوش تھا۔ وطن زادے اپنے وطن کے دفاع میں ، قبضہ گیر ریاست کی جبر و تشدد برقرار تھی، کسی بزرگ کو پکڑ کر تین گھنٹے تک دھوپ میں کھڑا کرکے (یہی سوال) کہ سرمچاروں کا پتا بتا دو ۔اسجبر و ظلم کے خلاف کئی بلوچ نوجوان ریاست کے خلاف مزاحمت کی راہ کو اپنائے ہو ئے تھے ۔روز پاکستانی آرمی کی گشتی قافلوں پہ شدید حملے ہو رہے تھے، دشمن فوج کاتنگ آکر حملوں کے بدلے کسی بے گناہ کو پکڑ کر لاپتہ کرنا، بس یہی روز کا معمول تھا ۔
دن گزرتے جارہے تھے مجھے پڑھائی کے سلسلے میں اپنے گاؤں چھوڑ کر کسی اور جگہ جانا پڑا۔ ایک دن وٹس ایپ نیوز گروپ میں ایک میسج آیا کہ بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے آبائی علاقہ مشکے میہی میں پاکستانی فوج اور بلوچ سرمچاروں کے درمیان ایک طویل جنگ چل رہی ہے۔ دونو ں طرف جانی نقصانات کے اطلاعات ہیں ۔یہ نیوز دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے اس جنگ میں، میں خود بھی شامل ہوں، گلا خوش ہونے لگا پسینہ سر سے پاؤں تک پانی کی طرح بہنے لگا، ہاتھ کانپنے لگے ، کچھ بھی ذہن میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ؟کچھ دیر خاموش بیٹھ کر سوچنے لگا ۔کون ہم میں کون ہمیں چھوڑ کر جام شہادت نوش کر گیا ہے ، کسی سے بھی میرا حوال نہیں ہو رہا تھا، بس آنکھیں موبائل پر تھیں کہ کب بی ایل ایف اپنے آوفیشل اکاؤنٹ سے اپنا بیان جارے کرے گا۔یہ دن اور رات گزر گئے جو کسی کرب سے کم نہیں تھے ، لیکن بی ایل ایف کا بیان دیکھنے کو نہیں ملا ۔ یہیں پر کسی اور دوست نے مشکے سے حال وا حوال لیا ، جب وہ بولنے لگا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو آنے لگے ، میں نے جلدی سے پوچھا بتائو کیا حال ہے ؟
سسکیوں میں بتایا کہ یار کاکا ، شہیک جان ذاکر ،فرہاد بالاچ و گاجی خان شہید مسُنو ۔
مجھے اُسی وقت سب شہیدوں کے ہمراہ گزرے ہوئے لمحے یاد آ رہے تھے اور ذہن میں یہی سوچ تھا کہ اب یہ ہمیشہ یاد بن گئے ہیں لیکن دل اور دماغ میں جنگ پڑ گئی تھی ۔دل کچھ بھی ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن دماغ ذہن کو یہ اذیت ناک یادیں یاد دلا رہا تھا۔ شاید اس سے پہلے میں نے درد کو اس شدت سے محسوس نہیں کیا تھا، شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک ذہنی دباؤ انسان کی ساری جذبات،جسم کی حرکت و طاقت کو اس طرح قید کر سکتا ہے لیکن اب اپنے اندر مجھے لڑنا تھا اور اس جنگ میں میرا دشمن میرا اپنا ذہن تھا کہ اس کی یاداشت کو ماتھ دے کر قابو کرلوں۔ دنیا کا کوئی فلاسفر،شاعر، رائٹر کوئی بھی میرے جذبات کی نمائندگی نہیں کر پا رہا تھا بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ میں خود بھی اپنے اندر کی احساس کو بیان نہیں کر پا رہا تھا۔
ذاکر ، شہید ذاکر عمیق جذبات رکھتے تھے ، وہ ایک جزیاتی نوجوان نہیں تھے ، آپ بی ایل ایف کے ایک اہم جنگجو تھے۔ شہید ذاکر جان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ دشمن کے خلاف بہت سی کارروائیوں میں شرکت کرتے رہے۔
جب 30 جون 2015 کے دن دشمن ایک بڑی تعداد میں اس امید کے ساتھ آئی تھی کہ وہاں موجود سب سرمچاروں کو شہید کرے لیکن ذاکر جان نے دلیری سے اپنی جان کی بازی لگاکردشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا ۔ کئی ساتھی سرمچاروں کو گھیرے سے با حفاظت نکالنے میں کامیاب ہوا۔
شہید سلیمان عرف شیھک جان ایک قائدانہ صلاحیت کے مالک سرمچار تھے۔ آپ نے مشکے،راغے،گریشہ،مکران کے کئی محاذوں میں ساتھی سرمچاروں کی رہنمائی کی۔ آپ کی مزاج میں وہ نرمی تھی کہ بلوچستان بھر کے جہدکار و عام بلوچ آپ کے شیدائی تھے ۔ اسی طرح جہدِ آزادی کی راہ میں آپ نے قائدانہ راستہ اپنا کر ایک رہنما کی حیثیت اختیار کی۔ خدا نے آپ کو بلوچ معاشرہ اور بلوچ کی نفسیات کے پیچیدگیوں کو سمجھنے میں ایسی مہارت دی تھی کہ کئی سماجی اور معاشرتی مسئلے آپ کی طرف سے حل ہوتے تھے چاہے وہ جھاؤ،آواران،راغے ،گریشہ یا مکران کے علاقے ہوں ۔وہ زمینی مسئلہ ہو یا معاشرتی،سماجی مسئلہ ہو اِن سب کو سمجھنے میں اور راہ نکالنے میں آپ ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔ آپ کی بلوچ آزادی جدوجہد میں اثر، سماج میں رہبری و محاذ پر رہنمائی کو دیکھ کر دشمن نے سب سے پہلے آپ کو نقصان پہنچانے کا ٹان لیا۔ علاقائی ڈیتھ اسکواڈ اور زر خریدوں کو آپ کی مخبری کے لیے ہرقسم کی لالچ دینے کو تیار ہوئی لیکن آپ نے ثابت قدمی سے اپنی قومی ذمہ واریوں کو سر انجام دیا۔ جب 30 جون 2015 کو دن اور رات کے درمیانی اوقات میں صبحِ کاذب کو نہیں پتا تھا کہ ان سرخیوں کو شیہک جان اپنے اور اپنے ساتھیوں کے خون کے ساتھ لال کردے گا۔
جنگ شروع ہوا، شیہک جان کو پہلے لمحے میں گولی لگی اور یہیں دو ،تین دشمن اہلکاروں کو بھی مُردار کیا۔ گولیاں ایسی جگہ لگی تھیں کہ شیہک جان چل نہیں سکتا تھا اور ریڈ کی ہڈی بھی متاثر ہوئی تھی۔ جب دوستوں نے یہ دیکھا سب غمزدہ ہوئے لیکن شیہک جان نے اپنی زندگی کی آخری جنگ دشمن کے خلاف اپنے لہو سے تاریخ کے اوراق میں درج کیا۔ اُسی لمحے دوستوں نے کمانڈ کیا خود بھی لڑتا رہا اور دشمن پسپا ہوا تو دوستوں سے کہا میرا آخری پیغام ریکارڈ کرو ۔
اُس لمحے بہت خون بہہ چکا تھا، کچھ دوست بھی شہید ہوئے تھے اور وہ مردِ مجاہد خود دشمن کے گھیرے میں تھے لیکن وہی مزاج،مہر و ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے بلوچ قوم کو اپنا تاریخی آخری پیغام ریکارڈ کرایا سب کو رخصت کیا کوئی بھی شیہک جان کو چھوڑ کر جانے میں تیار نہیں تھا ۔شیہک جان نے سب کو پیار سے بوسہ دے کر رخصت کیا اور جانے کو کہاکہ لیکن ایک ساتھی کو گولی لگی تھی لیکن وہ تندرست تھے کہ جا سکے شیہک جان نے بہت کہا کہ جاؤ لیکن رمضان ، وہ تو یہی خواہش رکھتا تھا کہ شیہک جان کے ساتھ شہید ہو ۔ شیہک جان نے اپنی ایم سولہ بندوق دوستوں کو دی اور ایک کلاشن لیکر میدان میں ڈٹے رہے ،دشمن کو سکھاتے رہے کہ جنگ کس کو کہتے ہیں ۔دشمن کارندوں کے بے حساب لاشیں گرتی رہیں ، رمضان اور شیہک جان نے آخری گولی کا فلفسہ اپنا کر ہمیشہ کے کیے گلزمین کے ہو گئے۔
شہید ماسٹر سفر خان ایک معلم تھے۔ وہ بلوچ جدوجہد کے بنیادی ساتھیوں میں سے ایک تھے جو اپنے بھائی ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی مدد کرتے رہے، جب ڈاکٹر اللہ نذر جیل میں تھے شہید سفر خان نے ہر ممکن کوشش کی اور بعد میں بھی ڈاکٹر اللہ نذر کا سایہ اور شفیق رہے۔ آپ کا مزاج اور شعور دونوں روشن تھے، بلوچ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی سے لیکر جدوجہد میں ثابت قدم رہنے کی ہدایت نے معلم کا درجہ بلند کیا۔
گاجی خان ،اپنے والدین کا واحد سہارہ تھا اور بلوچ جدوجہد کا سرمچار ساتھی بھی۔
اُس لمحے کے بعد ان تاریخی قربانیوں نے مجھ سمیت ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو جہد آزادی کی طرف راغب کیا، آزادی کی قیمت کو جاننے میں شعور دی۔
٭٭٭