بلوچستان بھر میں ہر عید کی طرح یہ عید بھی مذہبی جوش وجذبے سے پرے ریاستی فورسز کے ہاتھوں قتل وجبری گمشدگی کے شکار اپنے پیاروں کے غم میں آہوں، سسکیوں اور آنسوئوں سے منائی جاری ہے ۔
ہر عید کی طرح اس عید میں بھی کوئٹہ و کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے ۔
چودہ سالوں سے لاپٹہ ڈاکٹردین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے آج کراچی میں آرٹس کونسل سے پریس کلب تک ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا جس میں تمام مکتبہ فکر اور مظلوم و محکموم اقوام سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے ۔
جبکہ کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی ۔
سنگر کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پاکستانی فورسز ہاتھوں قتل وجبری گمشدگی کے شکار لواحقین سے اظہاریکجہتی کیلئے احتجاجی ریلی ومظاہروں سمیت ان کی ایصال ثواب کیلئے نماز عید میںدعائیں کی جارہی ہیں۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں گذشتہ پندرہ سالوں سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے کہ جس کا کوئی فرد اس سے بچاہو۔ان پندرہ سالوں سے بلوچستان بھرمیں عید کوبطور ماتم منانے کا رواج سامنے آیاہے ۔