ترکی کی جانب سے مزید شامی اجرتی جنگجو لیبیا بھیجنے کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ترکی نے شام سے تعلق رکھنے والے مزید اجرتی جنگجوﺅں کی بڑی تعداد لیبیا بھیج دی ہے۔ ترک انٹیلی جنس نے ایران نواز شامی ملیشیاﺅں پر زور دیا ہے کہ وہ لیبیا کے لیے مزید جنگجوﺅں کی فہرستیں تیار کریں۔

اسپانوی اخبار ‘اوکی دیارو’ کے نامہ نگار راﺅول ریڈونڈو نے بتایا کہ ترک انٹیلی جنس ادارے شام سے مزید جنگجوﺅں کو لیبیا لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسپانوی صحافی اور مضمون نگار کاکہنا ہے کہ ترکی کی طرف سے شامی جنگجوﺅں کو اجرت کی فراہمی میں تاخیر پرجنگجو لیڈروں نے انقرہ حکومت کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی نے شمالی شام کے سرحدی علاقوں سے بڑی تعداد میں جنگجو بھرتی کرکے لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے لیے بھیج رہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویتری نے خبردار کیا ہے کہ شام سے مزید جنگجوﺅں کی لیبیا کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں لیبیا میں مزید خون خرابے کا اندیشہ ہے۔

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ ترک انٹیلی جنس اداروں کی طرف شامی جنگجو گروپوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے جنگجوﺅں کی فہرستیں تیار کریں تاکہ انہیں لیبیا بھیجنے کے انتظامات کیے جاسکیں۔

لیبیا میں کئی شامی جنگجو گروپ ترکی کی زیرنگرانی لڑائی میں شامل ہیں۔ ان میں سنہ 2016ءمیں قائم کی گئی احرار الشرقیہ تنظیم بھی شامل ہے جس کے 2200 جنگجو لیبیا کی لڑائی میں شامل ہیں۔ ان میں مشرقی شام کے علاقے دیر الزور سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment