چین نے امریکی سیاستدانوں پر کورونا وائرس کے حوالے سے سراسر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے مسائل پر توجہ دیتے ہوئے وائرس پر قابو پانے کی کوئی راہ نکالے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ وائرس کا پھیلاو¿ روکنے اور اس کو کنٹرول کرنے کی اپنی ذمے داری سے پہلو تہی اور عوام کی توجہ اس جانب سے ہٹانا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے مسائل پر توجہ دے اور جلد از جلد وائرس پر قابو پانے کی کوئی راہ نکالے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین کے شہر ووہان سے شروع ہو کر دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے ہونے والے نقصان کا چین سے ہرجانہ طلب کریں گے۔
کورونا وائرس کے پھیلاو¿ پر دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں چین اور امریکا میں ایک عرصے سے کشیدگی موجود ہے۔
پیر کو وائٹ ہاو¿س میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چین سے خوش نہیں ہیں، ہم پوری صورتحال سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ اس کو جڑ سے روکا جا سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسے تیزی سے روکا جا سکتا تھا اور اسے پوری دنیا میں نہیں پھیلنا چاہیے تھا اور انہیں اس کا ذمے دار ٹھہرانے کے لیے کئی راستے موجود ہیں۔
اس موقع پر ٹرمپ سے ایک جرمن اخبار کے ادارے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا جس نے چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وائرس سے جرمن معیشت کو پہنچنے والے نقصان پر 165 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرے۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا بھی ایسا ہی کچھ کرے گا تو امریکی صدر نے جواب دیا کہ ہم اس سے آسان راستہ اختیار کریں گے اور ابھی ہم نے حتمی رقم کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ امریکا میں اب تک 56 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ تقریباً 10 لاکھ افراد وائرس سے متاثرہ ہوئے ہیں۔
اس وائرس کا آغاز دسمبر کے آخر میں چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا لیکن وائرس کے خلاف بہترین حکمت عملی اختیار کرنے کی بدولت چین اس وائرس پر قابو پانے میں کامیاب رہا البتہ اس سے قبل وہاں ساڑھے 4 ہزار افراد ہلاک اور 80 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے تھے۔
اب چین میں حالات مکمل طور پر قابو میں نظر آتے ہیں اور 13 دن سے وہاں کورونا وائرس سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی تاہم امریکا سمیت یورپی ممالک نے چین کے وائرس کے حوالے سے اعداد وشمار پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین میں ہلاکتیں اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔