یہ دور جنگ کا نہیں،ڈائیلاگ اور سفارت کاری کا ہے، نریندر مودی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی صدر بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل بائیڈن کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے سٹیٹ ڈنر میں شرکت کی ۔

امریکی صدر کی جانب سے دیئے جانے والے اس خصوصی عشایئے میں شرکت کے لئے فیشن، اینٹرٹینمنٹ اور بزنس کی دنیا کے بڑے بڑے نام وہائٹ ہاوس پہنچے ہیں ، جن میں ڈیزائنر رالف لارین، فلمساز ایم نائٹ شامالین، اور ٹینس کی دنیا کے لیجنڈ بلی جین کنگ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے اداروں ایپل، گوگل اور مائیکروسوفٹ کے سی ای اوز بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی کانگریس اور سینیٹ کے اجتماعی ایوان سے خطاب کیا ۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دور جنگ کا نہیں بلکہ ڈائیلاگ اور سفارت کاری کا ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ اب سے کچھ سال قبل جب انہوں نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا تھا تو بھارت دنیا کی دسویں بڑی معیشت تھی اور آج وہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔

دفاع کے حوالے سے نریندر مودی نے کہا کہ اس صدی کے آغاز پر امریکہ اور بھارت میں اس شعبے میں تعاون بہت ہی کم تھا لیکن آج امریکہ بھارت کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار ہے۔

انہوں نے بھارت اور امریکہ کے درمیان تعاون کے امکانات کو لامحدود قرار دیا اور کہا کہ محنت کش اور ہونہار بھارتی امریکیوں نے بھارت اور امریکہ سے محبت کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ سپلائی چین کو آزادانہ انداز میں چلانے میں تعاون کریں گے۔

مودی نے کہا،”ہمارے دونوں ممالک نے انتہائی اہم شعبوں میں ٹیکنالوجیکل تعاون کا عزم کیا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ یوکرین میں جنگ یورپ کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسائل کے پر امن حل اور ملکوں کی علاقائی سالمیت پر زور دیا۔

یہ دور جنگ کا دور نہیں ہے بلکہ ڈائیلاگ اور سفارت کاری کا ہے۔

انہوں نے کہا ،”دہشت گردی دنیا بھر کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنا چاہیے اور ہمیں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں سے مقابلہ کرنا چاہیے۔”

Share This Article
Leave a Comment