اقوام متحدہ کے ایک ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے 2002 میں ہر سال یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ بچوں سے ان کا بچپن نہ چھینا جائے اور انہیں تعلیم دلوائی جائے تاکہ وہ بڑے ہوکر مفید شہری بن سکیں۔
بارہ جون کو دنیا بھر میں بچوں سے مشقت اور محنت مزووری کرانے کےخلاف شعور بیدار کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے کنونشن نمبر 182 کے مطابق معمول کےاور پر خطر کام کے لیے کم از کم عمر 18 سال ہونا ضروری ہے جب کہ ترقی پذیرملکوں میں ہلکی نوعیت کے کام کے لیے 14 سال جب کہ ترقی یافتہ ملکوں میں 15 برس کے بچوں کو ملازم رکھا جا سکتا ہے۔
اس سال چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن پر اقوام متحدہ کی توجہ سماجی انصاف پر مرکوز ہے اور عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبراور سماجی انصاف کے درمیان ربط کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سب کو یکساں انصاف مل سکے۔
لیکن اس کنونشن پر عمل درآمد کی راہ میں غربت ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں والدین اپنے بچوں کو کم عمری میں محنت مشقت اور نوکری پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔
عالمی ادارہ سمجھتا ہے کہ بچوں سے محنت مزوری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ان وجوہات کو ختم کیا جائے جو بچوں سے مشقت کرانے کا سبب بنتی ہیں، جن میں سرفہرست غربت، وسائل کی کمی اور کسی خاندان میں رونما ہونے والے وہ اسباب ہیں جو بچوں کو چائلڈ لیبر کی جانب دھکیل دیتے ہیں تاکہ وہ خاندان کا پیٹ پالنے میں اپنا حصہ ڈال سکے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ سن 2000 کے عشرے سے دنیا چائلد لیبر کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرر ہی ہے لیکن گزشتہ کچھ برسوں کے دوران جنم لینے والے بحرانوں، تنازعات اور عالمی وبا کے پھیلاؤ نے مزید خاندانوں کو غربت میں دھکیل دیا ہے۔جس کی وجہ سے آج دنیا بھر میں تقریباً 16 کروڑ بچے چائلد لیبر کرنے پر مجبور ہیں ۔گویا دنیا بھر میں تقریباً دس میں سے ایک بچہ چائلڈ لیبر کا حصہ ہے۔دوسرے لفظوں میں ہر دس میں سے ایک بچہ محنت مزوری کر کے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے روٹی کما رہا ہے۔