بلوچستان اسمبلی ارکان نے کہا ہے کہ وفاق کا بلوچستان کے ساتھ رویہ ہتک آمیز ہے۔ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بلوچستان کی مردم شماری متنازع بنائی گئی تو پورے ملک کی مردم شماری متنازعہ ہوگی، اگر وفاقی وزراءکو کمیٹی بنانی ہے تو وہ بین القوامی مردم شماری کمیشن سے مردم شماری کروا لیں ۔
ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پینل آف چےئر پرسن کی رکن شکیلہ نوید دہوار کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ مردم شماری آئین کے دائرے میں رہ کی جاتی ہے بلوچستان پسماندگی اور ناخواندگی کا شکار ہے صوبے کے عوام کی حیثیت کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیاگیا ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی اس وقت 4کروڑ کے لگ بھگ ہے لیکن مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی 2کروڑ 10لاکھ ظاہر کی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی 12کروڑ آبادی کے اعداد و شمار جعلی ہیں یہ آبادی چھوٹے صوبوں کے استحصال کے لئے بڑھائی گئی ہے ۔رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹے سے صوبے میں 12کروڑ لوگوں کا رہنا ناممکن ہے چمن سے گوادر، کاہان سے چاغی تک ہمیں یک زبان ہو کر بات کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کو کہا ہے کہ آبادی بڑھی ہے مردم شماری میں درست اعداد وشمار سامنے لائے جائیں ۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک پر اربوں ڈالر کمائے گئے ، ریکوڈک اور سیندک سے بھی ملک کو چلایا جائے گا ۔بلوچستان کی گیس ملک بھر میں فراہم کی گئی لیکن اسحاق ڈار اور احسن اقبال کو بلوچستان کے لوگ نظر نہیں آتے۔ ہمارے سے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ آبادی میں اضافے سے وفاقی وزراءکیوں پریشان ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پنجگور میں تین لاکھ آباد ی نکال دی گئی وہاں 4لاکھ نئے شناختی کارڈ بنے ہیں ، 3لاکھ بجلی کے بل جاری ہوتے ہیں جو کہ صرف 20فیصد ہے کیونکہ دیگر علاقے میں بجلی نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی کم کرنے سے یہاں احساس کمتری بڑھ رہا ہے وفاق ہمارے فنڈز پر کٹ لگا نا چاہتا ہے ۔
پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے نے کہا کہ ژوب، کوئٹہ ، سبی ڈویژن گنجان آباد علاقے ہیں ،قلعہ عبداللہ اور چمن کی آبادی میں صرف اڑھائی لاکھ کا اضافہ ظاہر کیا گیا ہے جنہوں نے بلوچستان کی آبادی کم ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے انکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ 9مئی کے بعد 6دن تک آبادی شمار نہیں ہوئی ہمارے بلوچستان کو وقت نہیں دیا گیا ۔
قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے لئے اسمبلی کی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے کہ مردم شماری کے عمل میں 2ماہ کی توسیع کی جائے مردم شماری کے نتائج کے ذریعے ہی وسائل کی تقسیم اور مستقبل کے لائحہ عمل طے ہونگے کوئٹہ کی آبادی کو کم ظاہر کر نے سے یہاں کی 9اسمبلی کی سیٹیں کم ہوکر 6ہو جائیں گی ۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کی نجکاری کی جارہی ہے جو کہ ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے 500ملازمین کو بیک جنبش قلم نوکریوں سے فارغ کردیا جائے گا ایسا کرنے سے لوگ بے روز گار ہونگے نجکاری سے قبل قانون سازی کے ذریعے ملازمین کو تحفظ بھی فراہم کیا جائے ۔
بی این پی کے رکن ثنابلوچ نے کہا کہ وفاقی حکومتیں ہمیشہ بلوچستان کے حوالے سے غلط پالیسیاں بناتی ہیں دنیان میں وسائل کی تقسیم غربت ، ضروریات، علاقے ،پسماندگی کو مد نظر رکھ کی جاتی ہے بلوچستان کو کوئی بھی اپنا گھر تصور نہیں کرتا ۔بلوچستان کے لوگوں کو ہر ادارے میں نظر انداز کیا جاتا ہے اسلام آباد کا رویہ بلوچستان کے ساتھ ہتک آمیز ہے ۔بلوچستان کے افسران پر مردم شماری کے نتائج کے حوالے سے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ بلوچستان کی مردم شماری کی تصدیق سپارکو سے کروائیں گے اگر سپارکو کو انتامعلوم ہوتا تو وہ اسامہ بن لادن کے آپریشن والے جہاز پکڑ لیتے ۔