جی سیون اجلاس میں یوکرین کو ایف 16طیاروں کی فراہمی پر اتفاق

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جی سیون ممالک کی اجلاس میں یوکرین کو ایف 16طیاروں کی فراہمی پر اتفاق ہوگیا ہے ۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین کو ایف16 لڑاکا طیارے فراہم کرنے اور یوکرین کے پائلٹوں کو انہیں اڑانے کی تربیت دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اس سے قبل صدر جو بائیڈن نے اپنے یوکرینی ہم منصب ولودیمیر زیلنسکی کی لڑاکا طیاروں کی فراہمی کی درخواستوں کو مہینوں تک مسترد کیا تھا۔ لیکن اب یہ فیصلہ تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو فراہم کردہ ایک بیان میں بتایا کہ صدر بائیڈن نے جی سیون رہنماؤں کو مطلع کیا ہے کہ امریکہ یوکرینی پائلٹوں کو ایف سولہ طیاروں سمیت فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیاروں کی تربیت کے لیے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ کوششوں کی حمایت کرے گا تاکہ یوکرین کی فضائیہ کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط اور بہتر بنایا جائے۔

وائس آف امریکہ کی نمائندہ پیٹسی ودا کوسوارا کی رپورٹ کے مطابق عہدیدار نے کہا ہے کہ یوکرین کے پائلٹوں کی آنے والے ہفتوں میں شروع ہونے والی تربیت یورپ کے مقامات پر ہوگی اور اسے مکمل ہونے میں مہینے لگیں گے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ہفتہ کو جاپان کے ہیروشیما میں جاری جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ "آنے والے مہینوں میں جیسے جیسے تربیت کا آغاز ہوگا ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کریں گے کہ طیارے کب فراہم کیے جائیں گے۔”

سلیوان نے کہا کہ لڑاکا طیاروں کو روس کے خلاف منصوبہ بند جوابی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بائیڈن کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ طیاروں کی فراہمی کا اقدام فضا میں ملک کی فوج کی طاقت بڑھائے گا۔

زیلنسکی نے یوکرین کے پائلٹوں کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کو اڑانے کی تربیت دینے کے منصوبے کو "تاریخی فیصلہ” کہتے ہوئے کہا کہ وہ جی سیون اجلاس کی سائیڈ لائن پر صدر بائیڈن سے ملاقات میں اس معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment