انسانی عزم اور مصمم ارادے کی طاقت کا اندازہ اس بنیاد پر لگایا جاسکتا ہے کہ حالات کتنے بھی نا مساعد ہوں گھڑیاں کتنی ہی تلخ ہوں اور زندگی صحرا کی تپش میں ہی تبدیل نہ ہوجائے۔ وہ کبھی ہمت نہیں ہارتا اور اپنی منزل کی جانب کبھی دوڑتا ہوا کبھی چلتا ہوا اورکبھی خود کو گھسیٹتا ہوا بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔
یہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا واضح ثبوت اور اسکی عظمت کی نشانی ہے ۔تو اسی طرح میری آنکھوں کے سامنے ایک ایسے انسان کا خاکہ ابھرتا ہے جس نے اپنی زندگی کے بیشتر اوقات نامساعد حالات میں انسانیت کی خدمت اور بقاء کے لیے وقف کردیا تھا۔اور ساتھ محکوم اور مظلوم بلوچ قوم کی قومی بقاء اور آزادی کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتا رہا۔ تمام نامساعد اور مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے میں بھی کامیاب رہا کہ زندگی ایک مقصد کے گرد گھومتی ہے ۔
پختہ اور مضبوط ارادوں کے مالک کبھی پیچھے نہیں ہٹتا ہے بلکہ ان مضبوط اور مصمم ارادوں اور شعوری منصوبوں سے معاشرے کے دیگر افراد سے متاثرہوکر ان کے متعلق جاننے اور ان سے قربت رکھنے کی جدوجہد کرتے ہیں یعنی ثابت قدم اور مخلص انسان کبھی تکتے نہیں۔
کہتے ہیں انسانی سماج ابتدائی ادوار سے دو ہی سوچ و فکر کا پیروکار رہا ہے ایک جو مختلف عقیدوں کے تحت سورج، چاند، ستارے، آگ، ہوا اور مختلف مافوق الفطرت قوتوں کا پوجا کرتا رہا ہے ۔ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مختلف رسومات کو جنم دیا جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکل اور ہیت بدلتے رہے۔ انہی افراد کے درمیان ایسے بھی لوگ پیداہوئے جنھوں نے اپنی سوچ اور فکر سے خداؤں، دیوتاؤں، پریوں اور جنوں کی خوف اور خوشنودی کا خیال نہیں رکھا بلکہ انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ ان سے گلو خلاصی کرلی۔ اسی طرح صدیوں کے سفر کے بعد جب ریاستیں وجود میں آیا تو معاشرہ بھی طبقوں میں تقسیم ہوتا گیا ۔
ایک وہ طبقہ جو تمام مراعات اور سہولیات کا مالک ٹھہرا اور ایک طبقہ محرومی اور استحصال کا شکار ہوتا رہا، اسی استحصال اور ظلم نے اسے جدوجہد اور مزاحمت کا علم بلند کرنے کے لیے اکسایا۔
اکیسویں صدی کے حالیہ جاری بلوچ جدوجہد پر نظر دوڑائیں تو بہت سے ایسے کردار ملتے ہیں جنہوں نے تمام وقتی مراعات اور غلامی کے آسائشوں کو رد کرتے ہوئے قومی جدوجہد کا حصہ رہے جہاں لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ غریب اور مظلوم گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک ایسے کردار کے مالک ہونگے جنہیں لوگ نسل درنسل یاد کرتے رہیںگے اور ہر محفل میں ان کے کردار اور قربانی کی تعریف وتوصیف بلند شان کے ساتھ ہوتا رہے گا۔
انہی ہستیوں میں سے ایک بلند پایہ کردار مقبوضہ بلوچستان کے علاقے کولواہ ڈندار میں واجہ دلوش بلوچ کے گھر آنکھ کھولنے والا آسمی وفا بلوچ ہے جو اپنے پاک و صاف کردار وقربانی کی بدولت کسی تعریف کے محتاج نہیں جس کو میں نے بہت قریب سے دیکھا وہ ایک مخلص اور روشن خیال انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوراندیش جہد کار بھی تھا۔
آسمی وفا نے زمانہ طالب علمی سے لیکر سیاسی اور عسکری میدان میں ہر کام کو باریک بینی اور ذمہ داری کے احسن طریقے سے سرانجام دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بلوچ قومی تحریک آزادی میں شمولیت کے فورا بعد جن نامساعد و مشکل حالات کا مقابلہ کرنا پڑا تو آپ نے ہر مشکل وقت کا انتہائی دیدہ دلیری خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔
اہل خانہ کی دربدری، عزیزورشتہ داروں کی پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گرفتاری، ٹارچرز وغیرہ نے آپ کے عزم و حوصلے کو پست ہونے نہیں دیا۔ آپ جیسے نڈر اور دلیر نوجوان کے بے وقت جدائی سے ایک خلا پیدا ہوگیا لیکن آزادی کی تحریکوں میں ہمیشہ وہ جہدکار دشمن کے نشانے پر ہوتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ دشمن پر کاری ضرب لگاتے ہیں ۔آسمی آپ یقیناً زندہ ہو، آپ کے مصمم ارادوں نے قابض فوج کو بھاگنے پر مجبور کیا ہے وہ اپنے بچے کچے دنوں کو گنتا جارہا ہے اور دیگر ریاستی بگی کھینچنے والے اپنی موت مر رہے ہیں ۔وفا آپ کا خواب بہت جلد پورا ہوگا۔آپ کا بلوچستان آزاد ہوگا۔اور لوگ شہیدوں کے مزاروں پر آزادی کے گیت گانے لگیں گے ۔
آزاد بلوچستان زندہ باد
٭٭٭