ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کی مخالفت کردی

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کی آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کی مخالفت کردی۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ احتجاج میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا محاسبہ ہونا چاہیے لیکن آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے عام شہریوں پر استعمال کی سخت مخالفت کرتے ہیں، سرکاری اورنجی املاک کو نقصان پہنچانے والےمناسب کارروائی کے حقدار ہیں، پہلے بھی جن شہریوں پر ان ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا وہ بھی سول عدالتوں میں لانے چاہئیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن نے کہا کہ سوات میں پولیس اہلکارکی فائرنگ سے اسکول طالبہ کی ہولناک موت ہوئی، سوات واقعے میں 7 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے، سوات کے واقعات یاد دہانی ہے کہ نوجوان کس قدر تشدد کا شکاراور غیرمحفوظ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ خاص طورپر کے پی میں ریاست امن و امان کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment