بلوچستان کابینہ نے پاکستان کے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کو مالی معاونت کی عدم فراہمی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف بلوچستان کے لئے نرم گوشہ ضرور رکھتے ہیں لیکن وزارت منصوبہ بندی اور وزارت خزانہ کا بلوچستان کے ساتھ رویہ ناقابل فہم اور ناقابل برداشت ہے جو بلوچستان کی پسماندگی اور عوام میں مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔
کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کی زیر صدارت گزشتہ روز منعقد ہونے والے کابینہ کے طویل دورانیہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان حکومت وفاقی اداروں کے رویہ پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرانے کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کی قیادت میں بلوچستان کے پارلیمانی جماعتوں کے قائدین ، وزراءاور قومی اسمبلی اور سینٹ کے بلوچستان کے اراکین پر مشتمل وفد وزیراعظم سے ملاقات کریگا ۔
اجلاس میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ وفاق کی ایک مضبوط اکائی ہونے اور این ایف سی کے شئیر کو آئینی تحفظ حاصل ہونے کے باوجود بلوچستان کو اس کا پورا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے جاری ترقیاتی عمل متاثر ہو رہا ہے اور اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو تنخواہوں کی ادائیگی بھی ممکن نہیں ہو گی ۔بلوچستان این ایف سی کے اپنے شیئر کے مطابق بجٹ بناتے ہیں لیکن غیر متوقع کٹوتی سے بجٹ پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا۔ وفاقی محکمے بلوچستان کے معروضی حالات اور مسائل و مشکلات سے لاعلم ہیں۔
کابینہ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی منصوبوں کے لئے بلوچستان حکومت 5 ارب روپے کی برج فنانسنگ کر چکی ہے تاہم یہ منصوبے وفاق کی جانب سے فنڈز کا اجراءنہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہیں سیلاب کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ دس ارب روپے کا بھی تاحال اجراءنہیں کیا گیا اوربلوچستان حکومت نے اپنے وسائل سے سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے کام کئے،
بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں پی پی ایل کے رویہ پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ 2019 سے پی پی ایل سوئی مائننگ لیز کے بلوچستان کے اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی میں ٹال مٹول کر رہی ہے اس حوالے سے بلوچستان حکومت اور پی پی ایل حکام کے درمیان متعدد اجلاس بھی منعقد ہوئے تاہم پی پی ایل کے منفی رویہ کے باعث اس دیرینہ مسئلہ کا حل نہیں نکل سکا ہے۔
کابینہ کا واضح موقف تھا کہ پی ایل ایل کے اس رویہ اور تاخیری حربو ں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور بلوچستان حکومت جلد حتمی اور دو ٹوک فیصلہ کریگی ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلاشبہ بلوچستان کی ترقی وفاق کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں اور ہماری شروع دن سے کوشش رہی ہے کہ وفاقی حکومت سے بہترین تعلقات قائم کرتے ہوئے وفاق کی معاونت کا حصول یقینی بنایا جائے تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم تک اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان کی ترقی میں خصوصی دلچسپی کے باوجود انکے احکامات پر من وعن عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ جلد اتحادی جماعتوں اور بلوچستان کی دیگر سیاسی قیادت کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کر کے تمام صورتحال انکے سامنے رکھیں گے ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم واضع احکامات دیتے ہوئے ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنائیں گے ۔