اہلیان بلیدہ زامران نے تربت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں علاقے میں بد امنی کی تدراک کیلئے مسلح جھتوں کوفوری طور پرغیر مسلح کرنےکی اپیل کی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلیدہ زامران کیچ ضلع میں وہ خطے رہے ہیں جہاں علم،ادب،سیاست،معیشت اور دیگر علمی مباحثے،اور جمہوری رویے یہاں کے باسیوں کی پہچان ہوا کرتا تھا۔یہ رویے اب بھی پائے جاتے ہیں لیکن یہاں کچھ عرصے سے کچھ عناصر منفی سیاسی رویوں کے فروغ کیلئے عوامی مفادات کو زک پہنچا کر عوام میں بے چینی کا سبب بن رہی ہیں۔جب بھی اِن قوتوں کے مفادات کی بات آتی ہے تو وہ بلیدہ زامران میں بد امنی،چوری ڈکیتی اور منشیات کے کلچر کوفروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ان قوتوں کو بااثر شخصیات کی باقاعدہ طور پر آشیرباد حاصل ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بلیدہ زامران کے نوجوان،آپ کی توسط سے چوروں،ڈاکووں،بدمعاشوں،منشیات فروشوں اور بدامنی پھیلانے والوں کے سرپرستوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلیدہ اور زامران کا تعلیم یافتہ طبقہ اب کلاشنکوف کلچر کو کسی صورت بھی قبول نہیں کریگی اور نہ ہی بندوق کلچر کے سائے تلے سیاست کو پنپنے دیگی۔ہم کتاب کلچر کی پیداوار ہیں ،قلم،کتاب سے لیس معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں۔اس لئے ان عناصر کو تنبیہ کرتے ہیں کہ بلیدہ زامران کی مثبت سیاسی،معاشرتی کلچر کو نقصان دینے کے بارے میں ہزار بار سوچیں کیونکہ اس صدی میں نوجوان باعلم ہیں،اور کوئی بھی سازشی عناصر چھپ کر معاشرے پر وار نہیںکرسکتا بلکہ ہر فرد جانتا ہے کہ حالات کو اس نہج پر کونسی قوتیں لے جانا چاہتی ہیں۔اس لئے ہماری خواہش اور کوشش ہوگی کہ بلیدہ زامران میں مسلح جھتوں کو فوری طور پر غیر مسلح کیا جائے تاکہ بدامنی ،چوری ،ڈکیتی اور سماج دشمن عناصر ان حالات کا فائدہ اٹھا کر معاشرے کو مزید نقصان اور تباہی کی طرف نہ دھکیلیں۔بلیدہ زامران نہ صرف کیچ بلکہ بلوچستان بھر میں ایک اہم خطہ ہے،یہاں کی سیاسی،معاشی اور ادبی ،تاریخی اہمیت سے کوئی انکاری نہیں لیکن بد قسمتی سے یہاں سے عوامی رائے کو ہمیشہ بند کمروں میں تبدیل کیا جاچکا ہے اس لئے یہاں علاقائی ترقی کی بجائے چند مخصوص شخصیات معاشی طور پر ترقی کرگئے۔گزشتہ تیس پینتیس سالوں سے بلیدہ زامران میں ترقیاتی عمل جمود کا شکار رہا ہے۔نا سڑکیں معیاری ہیں،نہ تعلیمی ادارے،اور نا ہی صحت کے مراکز میں سہولیات موجود ہیں۔عوامی فنڈز مخصوص طبقوں میں بے دریغ بانٹے گئے جس کی بدولت سے عام عوام حکمرانوں سے مایوس ہوکر سیاسی میدان سے دور ہوتے گئے اور نتیجتا نوجوان غلط راہوں میں بھٹک گئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بلیدہ زامران میں حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کی بدولت سے نہ صرف بد امنی پھیلی ہوئی ہے بلکہ بیشتر نوجوان مایوسی کے عالم میں غلط ہاتھوں میں استعمال ہونے جارہے ہیں۔اس لئے ہم اس ملک کے اصل حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خدارا بلیدہ زامران میں جاری گزشتہ پینتیس سالوں کی اپنی غلط پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور علاقے میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خاتمے میں عوام کا ساتھ دیں۔
ان کا کہناتھا کہ کئی عرصے سے بلیدہ اور زامران میں کاروباری شخصیات،تیل سے جڑے گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں پر مخصوص علاقوں میں نہ صرف حملے ہورہے ہیں بلکہ ان سے انکی گاڑیاں چھینے جارہے ہیں۔ان مزدوروں سے ان کے تیل چھینے جارہے ہیں اور مزاحمت پر بے گناہ لوگوں کوٹارگٹ کرکے قتل کیا جارہا ہے۔اس صورت حال میں بلیدہ انتظامیہ اور ضلعی حکومت خواب خرگوش میں ہیں۔بلیدہ زامران جہاں غریب لوگ کھیتی باڑی کے اوزار اور معمولی چاقو ساتھ لیکر باہر نہیں نکل سکتے،وہاں بھاری اور آٹومیٹک ہتھیار سے لیس رہزن آزادی سے گھومتے بھی ہیں اور عوام کو لوٹتے اور انہیں ٹارگٹ بھی کرتے ہیں لیکن انتظامیہ اور سیکیورٹی کے ادارے انہیں روکتے بھی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلیدہ ، زامران میں چوروں قاتلوں،راہزنوں کی روک تھام کیلئے عوام کی ٹیکسوں پر پلنے والی فورسز اپنے ہی عوام کو چوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ مخصوص علاقے میں مخصوص حالات پیدا کرکے بارڈر سے جُڑے کاروبار کو بند کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں اور عوام میں خوف پھیلا کر چند قوتیں سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں ،اور عوام الناس کو کیڑا مکوڑا سمجھتے ہیں۔ہم نے بلیدہ زامران میں گزشتہ پینتیس سالوں میں یہی ماحول دیکھا کہ جب بھی مفاد پرست تولے کی مفادات کو زک پہنچا ہے ،تو مزکورہ صورتحال میں عوام کو ٹارگٹ کرکے اپنا سیاسی ہدف حاصل کرنے کی ناکام کوششیںکی گئیں۔ خدارا بلیدہ زامران کے عوام پر رحم کیجئے اور انہیں آزادانہ کاروبار کرنے،سیاست کرنے اور زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔اگر عوام کو اس طرح ڈٰل کیا گیا تو نوجوان خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے عوام کی دفاع کیلئے کوئی راستہ ضرور نکالیں گے۔
اس لئے کیچ کی نااہل انتظامیہ بلیدہ زامران میں چوروں،ڈاکووں ،قاتلوں اور مسلح جھتوں کی سرپرستی ختم کرکے اپنا فرض منصبی درست طریقے سے نبھائیں ورنہ ہمارے پا س سخت عوامی احتجاج،سی پیک روڈ بند کرنا ،تربت شہر کی مین شاہراہوں پر احتجاجی کیمپ لگانا،اور دیگر احتجاج کے دیگر جمہوری اور سخت فیصلے کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ بلیدہ زامران کی امن کو ثبوتاژ کرنے میں کیچ انتظامیہ سمیت یہاں کی نام نہاد سلیکٹڈ نمائندوں کا بھی براہ راست ہاتھ ہے اور ان کے چہرے عوام کے سامنے عیاں ہوچکے ہیں۔نہ صرف امن و امان،بلکہ بلیدہ تربت شاہراہ کے اربوں رقوم غائب ہیں اور سابق چیف نے بلیدہ تربت شاہراہ کا افتتاح کرکے کام کا آغاز ہوا،اب کئی مہینوں سے تربت بلیدہ روڈ کا کام بھی بند ہے،شنید میں آیا ہے کہ اس پراجیکٹ کو بھی مقتدرہ اور ٹھیکیداروں نے کرپشن کی نذر کئے ہوئے ہیں۔ہم نیب اور دیگر محتسب اداروں سے بھر پور مطالبہ کرتے ہیں کہ بلیدہ زامران کیلئے گزشتہ پانچ سالوں میں اربوں روپے کے پراجیکٹس پر کرپشن کا فوری نوٹس لیں اور عوامی فندز واگزار کرکے عوامی منصوبوں پر فوری خرچ کیئے جائیں،ورنہ عوام اب خاموش نہیں بیٹھیں گے۔