کوئٹہ : وکلاء رہنمائوں کا بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کیمپ کا دورہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں قائم جبری لاپتہ افرادلواحقین اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5029 دن ہوگئے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون رشید ،پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی حسن رضا پاشا ،وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل بشارت اللہ خان ،چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی بلوچستان بار کونسل قاسم علی گاجی زئی نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ خفیہ ادارے اسٹیبلشمنٹ نے ایک خاص منصوبے اور حکمت عملی کے تحت صوبائی حکومت کو سرکارے گدھی پر بٹھا کر اپنے تمام سیاسی ٹولز کو انکے ماتحت کیا جس کی خاص وجہ انکی خدمات کو بلوچ پر امن جد جہد جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور لاپتہ افراد کو لاپتہ جعلی مقابلے میں مار کر انکے لاشوں کو ورثا کے حوالے نہ کرنے کے خلاف بروئےکار لانا تھا۔ تاکہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ اور انکے گماشتوں کو نئی حکمت عملیوں کی تحت بلوچ پرامن جدجہد کی عالمی مقبولیت پذیرائی کو کاونٹر اور اور داخلی طور پر پر امن جدجہد کو پروان چھڑنے سے روکھنا ہے۔ جس کی تحت بلوچ فرزندوں کا جبری اغوا نسل کشی میں تیزی کے ساتھ سیاسی کارکنوں کو گردگھیرا تنگ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور اسکے ٹیم مے سرکاری وفاداری نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بلوچ مسنگ فرزندوں کو شہید کرکے اجتماعی قبروں میں پھینک کر اپنی وفا کو انسانیت کے قتل عام سے اونجا مقام دینے والے نے بلوچ نسل کشی فرزندوں کا جبری اغوا گھروں پر بہمباری میں ایک پل بھی ہاتھوں سے جانے نہیں دیا خیال یہی ہے کہ سرکاری کرسی پر تشریف اوری سے پہلے ہی بلوچوں کے خلاف روڈ میپ تیار کیا تھا۔ جس میں تمام ماس آرگنائزیشنوں کے خلاف انکی پلاننگ کی تحت ہی اسے اعلیٰ منصب پر فائز کیا گیا۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ تعمیل کی بجا آوری کرکے تمام سیاسی جماعتوں کے ورکروں کو چن چن کر جبری اغوا اور شہید کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ صرف یہاں تک مہدود نہیں بلکہ انکے رشتہ داروں تمام شعور رکھنے والے مکاتب فکر کے لوگ انکے نشانے پر ہیں۔ ریاستی جینوسایڈ میں سیاسی کارکنوں خیرخوا اور رہنمایوں کو خاص نشانہ بنایا گیا۔ جس میں مرکزی رہنمائوں سے لے کر کارکنوں کو جبری اغوا تشدد شہید کیا گیا مگر تمام ریاستی جبر ظلم جبر کے باوجود تنظیم کے رہنماوں لواحقین کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور انکے قدموں میں لرزش نہیں آئی۔

Share This Article
Leave a Comment