لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے عید کے روز کوئٹہ ،خضدار واسلام آباد میں بھی مظاہرے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے خلاف عید کے روز کوئٹہ، خضدار اوراسلام آباد میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

احتجاجی مظاہروں کی کال بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین، طلباء و سیاسی تنظیموں کی جانب سے دی گئی تھی، ان احتجاجی مظاہروں میں مختلف مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کرتے ہوئے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی اور جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بلوچ طلباء تنظیموں کی جانب سے اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرائی گئی جہاں مظاہرین نے پاکستانی فورسز کی جانب سے حراست میں لئے گئے ماہل بلوچ و دیگر لاپتہ افراد کی تصاویر ہاتھوں میں اُٹھائے ہوئے تھے۔

اسلام آباد احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا بلوچستان میں جبری گمشدگیاں مزید شدت اختیار کرچکے ہیں پہلے صرف بلوچ مردوں کو اُٹھا کر ماورائے آئین و قانون لاپتہ کردیا جاتا تھا اب تو سرعام بلوچ خواتین کو بھی لاپتہ کیا جارہا ہے لیکن ریاست اس طرح تماشہ لگاکر صرف اور صرف حالات کو اپنے لئے بلوچستان میں بدتر بنا رہا ہے۔

طلباء کا کہنا تھا ہم اپنے گھروں کو عید کے روز اس لئے لوٹ کر نہیں جاتے کہ ہمارے گھر والوں کو خوف لاحق ہوتی ہے ہمیں بھی اُٹھاکر جبری لاپتہ کردیا جائے گا لیکن اب حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں کہ بلوچ طلباء اور شہری پنجاب میں بھی محفوظ نہیں اُنھیں اُٹھا کر لاپتہ کیا جارہا ہے۔

دریں اثنا خضدار میں جبری گمشدگیوں کے شکار لاپتہ افراد کے لواحقین بھی عید کے موقع پر سڑکوں پر نکل آئے اور سالوں سے جبری طور پر لاپتہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

خضدار میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے شہید عبدالرزاق چوک پر احتجاج ریکارڈ کرائی گئی۔

اس موقع پر لاپتہ افراد کے لواحقین نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کی ان ظالم ریاستی احکامات اور اپنی پیاروں کی باحفاظت بازیابی کیلئے لاپتہ افراد کے لواحقین ایک مرتبہ پھر عید کے دن عید منانے کی بجائے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے ایک احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بھی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز و بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

مظاہرین نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی ریکارڈ کراتے ہوئے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی روک تھام اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا، اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی، بی ایس او سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے ارکان و رہنماء شریک ہوئے۔

Share This Article
Leave a Comment