صومالیہ کی فوج نے ہفتے کی صبح ملک کے ایک دور افتادہ علاقے میں شدت پسند تنظیم الشباب کے حملے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 18 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ ان جھڑپوں میں تین شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
افریقی ملک صومالیہ کی فوج نے ہفتے کی صبح ملک کے ایک دور افتادہ علاقے میں شدت پسند تنظیم الشباب کے حملے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 18 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ ان جھڑپوں میں تین شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
صومالیہ کی فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق ہفتے کی علی الصبح ملک کے ایک دور افتادہ علاقے میں الشبابکے جہادیوں کی طرف سے ایک حملے کے بعد فوج نے کارروائی کرتے ہوئے اس جنگجو گروپ کہ پسپا کر دیا۔ اس لڑائی میں الشباب کے 18 جہادی اور کم از کم تین شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ جنرل محمد احمد تردیشو نے فون پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ جھڑپیں ماساگاوے قصبے کے قریب ہوئیں Masagaway Galgadud وسطی صومالیہ کے علاقے میں واقع ہے اور وہاں پر ایک فوجی اڈہ بھی قائم ہے۔
دریں اثناء ایک رہائشی یوسف شیخ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے اس ملٹری اڈے پر پہلے قبضہ کر لیا پھر ہتھیاروں کو ضبط کیا اور ان جھڑپوں کے دوران جنگی گاڑوں کو نذر آتش کر دیا۔