بلوچستان کے علاقے مچھ اور بولان کے علاقے مارواڑ سے پاکستانی فورسز نے 5 افراد کی لاشیں کوئٹہ و مچھ ہسپتال منتقل کی ہیں۔
مچھ کے ہسپتال ذرائع کے مطابق لاشوں کے جسموں پر گولیوں کے نشانات ہیں تاہم مذکورہ افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد ممکنہ طور پر گذشتہ دنوں مچھ و بولان کے علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔
مچھ ہسپتال میں لائے گئے لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
جبکہ دوسری جانب بولان کے علاقے مارواڈ سے بھی تین لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردی گئیں ۔
پاکستانی فورسز نے سول ہسپتال کوئٹہ میں تین افراد کی لاشیں منتقل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ افراد بولان کے علاقے مارواڑ میں فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں۔
تاہم مذکورہ افراد کی شناخت پہلے ہی سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں پاکستانی فورسز نے لاپتہ کیا تھا۔
مذکورہ افراد میں سے ایک کی شناخت غلام فرید شاہوانی ولد غلام مصطفیٰ شاہوانی سکنہ کلی کاریز سور مستونگ کے نام سے ہوئی ہے جنہیں اگست 2022 میں پاکستانی فورسز نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا۔
قتل کیے جانیوالے دوسرے شخص کی شناخت عظیم خان ولد یار خان مری کے نام سے ہوئی ہے جو ہرنائی کے علاقے نشپا کا رہائشی تھا جبکہ وہ گلہ بانی کرکے اپنا گذر بسر کررہا تھا۔
مارواڑ جعلی مقابلے میں قتل کیے جانیوالے والے تیسرے شخص کی شناخت حضرت سمالانی ولد ملا محمد خان کے نام سے ہوئی ہے جن کا بنیادی تعلق سنجال (غربوک) سے ہیں۔