یونیورسٹی ملازمین کابلوچستان اسمبلی سامنے احتجاجی کیمپ لگانیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان یونیورسٹی ملازمین نے سوموار کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی کیمپ لگانیکا اعلان کیا ہے ۔

اس سلسلے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس زیر صدارت شاہ علی بگٹی منعقد ھوا ۔

اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ ، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، پروفیسر ارسلان شاہ، سید شاہ بابر، عبداللہ مینگل، اسماعیل پرکانی ،ارباب طاہر کاسی، شمس علی زئی ، پروفیسر دوستک اور اسحاق پرکانی نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس امر پر سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیاکہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین کو تاحال پچھلے تین مہینوں کی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن نہیں ھوسکی اور بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 میں اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین اور طلباء وطالبات کی منتخب نمائندگی یقینی بنانے، آفیسران اور ملازمین کو پروموشن، آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل اور دیگر دیرینہ مسائل کے حوالے سے غور وخوص ھوا۔

اجلاس میں کل بروز سوموار کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات کو درپیش مالی اور انتظامی بحران کے حوالے سے ایجنڈا پوائنٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور فیصلہ کیا کہ جامعہ بلوچستان اکے اساتذہ آفیسرزاور ملازمین بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی کیمپ اور مظاہرہ کرینگے۔

اجلاس میںبلوچستان حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان اسمبلی میں گذشتہ دنوں جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات کی مالی و انتظامی بحران کے مستقل حل کے حوالے سے اپنے متفقہ طور پر پاس شدہ قرارداد پر عملدرآمد کیا جائے اور بلوچستان کی مدر علمی سمیت دیگر جامعات کو بند کرنے سے بچایا جائے۔

اجلاس میں جامعہ بلوچستان کے ریٹائرڈ ملازم امیر جان بلیدی کی پچھلے تین مہینوں کی پینشن کی عدم فراہمی کی وجہ سے مفلسی اور تنگ دستی کے عالم میں دل کے دورے کی وجہ سے انتقال پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا جس کی تمام تر ذمہ داری بلوچستان و مرکزی حکومت جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، اب انکے لاچار یتیم خاندان اس ھوشربا مہنگائی میں کس طرح گذارہ کرینگے۔

اجلاس میں جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین سے درخواست کیا گیا کہ وہ صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنےاور مظاہرہے میں بھرپور انداز میں شرکت کریں اور سوموار کوصبح جامعہ بلوچستان میں احتجاجا دفاتر ،امتحانات اور ٹرانسپورٹ کو بند رکھے۔

Share This Article
Leave a Comment