بھارت میں نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے 12ویں جماعت کی تاریخ کی نصابی کتابوں سے مغلیہ سلطنت کے بعض ابواب کو ہٹانے کا فیصلہ کیا، جس پر سیاسی حلقوں کے مختلف گروپوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ریاست اتر پردیش وہ پہلی حکومت ہے جس کا کہنا ہے کہ چونکہ مرکزی حکومت نے نصاب میں مغلیہ تاریخ کو نہ پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے اس نے اس پر اگلے تعلیمی سال سے عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
مودی حکومت نے نصابی کتاب میں سن 2002 میں ہونے والے گجرات کے مسلم کش فسادات کا حوالہ نکال دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور ہندوؤں کی سخت گیر تنظیم آر ایس ایس پر عائد کی گئی پابندی کے اقتباسات کو بھی نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکردہ وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے اس پر اپنے رد عمل میں کہا کہ نصاب میں اس چھیڑ چھاڑ سے، گاندھی جی کی ہندو مسلم اتحاد کی کوشش، آر ایس ایس پر پابندی، گجرات فسادات کے تمام حوالے اور وہ احتجاجی تحریکیں متاثر ہوں گی جو دور جدید کے بھارت میں سماجی تحریکیں بن چکی ہیں۔