طالبان نے اقوام متحدہ کے خواتین ملازمین کو کام سے روک دیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ کے مشن نے کل منگل کو اعلان کیا ہے کہ اس کی افغان خواتین ملازمین کو مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے، جس کے بعد طالبان حکام کو یاد دلایا گیا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ خواتین کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے ’ٹویٹر‘ پر ٹویٹ کیا کہ "افغانستان میں اقوام متحدہ اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی افغان خواتین ملازمین کو صوبہ ننگرہار میں کام پر آنے سے روکا گیا ہے اور یہ اقدام باعث تشویش ہے”۔

مشن نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم ڈی فیکٹو حکام کو یاد دلاتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ادارے اپنی خواتین کے عملے کے بغیر اپنا کام نہیں کر سکتے اور اہم مدد فراہم نہیں کر سکتے۔”

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے ایک سوال کے جواب میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اشارہ دیا کہ وہ اس بارے میں معلومات لے رہے ہیں کہ کیا ہوا؟۔

چوبیس دسمبر 2022 کو طالبان حکومت کی وزارت اقتصادیات نے اعلان کیا کہ ملک میں کام کرنے والی 1,260 غیر سرکاری تنظیموں پر افغان خواتین کے ساتھ تعاون کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کیونکہ حجاب پہننے، جسم اور سرڈھانپنے کی پابندی سے متعلق "سنگین شکایات” ہیں لیکن اقوام متحدہ کو اس فیصلے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment