بلوچستان میں کوئٹہ ٹو کراچی آر سی ڈی شاہراہ جس کو خونی شاہراہ کے نام سے پہنچانا جاتا ہے ساڑھے تین سال کے دوارن مختلف حادثات میں 477افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں،جبکہ 38759 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران بلوچستان کی پانچ قومی ہائیویزپر ٹریفک حادثات میں787افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 477افراد صرف کوئٹہ کراچی آرسی ڈی خونی شاہراہ پر لقمہ اجل بنے حادثات میں بلوچستان کے نامور کھلاری مجاہد اسلام بٹ عبدالرحیم درانی میر علی کرد بھی اس شاہراہ پر حادثے کے سبب خالق حقیقی سے جا ملے ۔
کوئٹہ میں میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر 1122کے اعداد و شمار کے مطابق پانچ ہائی ویز پر اکتوبر 2019 سے لے کر مارچ 2023 تک پیش آنے والے 28646 چھوٹے بڑے حادثات میں سے 18096 حادثات کوئٹہ، کراچی ہائی وے پر پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 787 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 38759 تھی۔ 1980میں مذکورہ شاہراہ کی حالت زار خراب ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی رفتار کم ہوتی تھی اور 90کی دہائی میں شاہراہ کی دوبارہ تعمیر ہوئی 750کلو میٹر کی سنگل شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت زیادہ ہے۔