انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایندھن ذخیرہ کرنے والے ایک ڈپو میں آگ لگنے سے اب تک ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 16 لاپتا ہیں۔
امدادی کارکن اور فائر فائٹرز آگ کے باعث جلنے والے مکانات اور عمارتوں کے ملبے تلے ممکنہ طور پر پھنسنے والوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایندھن ذخیرہ کرنے والا اسٹیشن پلم پنگ سرکاری آئل اینڈ گیس کمپنی پرتامینا کی جانب سے چلایا جاتا ہے۔
یہ اسٹیشن شمالی جکارتہ کے مضافات میں ایک گنجان آباد علاقے کے قریب واقع ہے۔ اس اسٹیشن سے انڈونیشیا کی ایندھن کی 25 فی صد ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔
فائر حکام کا کہنا ہے آگ کم از کم دو گھنٹے تک پھیلتی رہی جس کے بعد کم از کم 260 فائر فائٹرز اور 52 فائر انجنز نے آگ پر جمعے کو رات گئے قابو پالیا۔
پرتامینا کمپنی کے ایک عہدے دار اکو کرسٹیاون کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ اس وقت لگی جب تیز بارش کے دوران ایک پائپ لائن ممکنہ طور پر بجلی گرنے سے پھٹ گئی۔
ڈپو کے قریب رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں پیٹرول کی شدید بدبو آنے لگی جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کی طبعیت خراب ہوئی، اس کے بعد آٹھ بجے کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا۔
انڈونیشین ریڈ کراس کے کمانڈ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق واقعے میں 15 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 16 افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے جو افراتفری کے دوران اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ تقریباً 49 افراد کو اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ تاہم ان افراد میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔
جکارتہ کے قائم مقام گورنر ہرو بڈی ہارٹونو کا کہنا تھا کہ بے گھر ہونے والے تقریباً 600 افراد کو حکومتی دفاتر، ریڈ کراس کمانڈ پوسٹ اور ایک اسپورٹ اسٹیڈیم میں عارضی پناہ دی گئی ہے۔