مدتوں پہلے کی بات ہے کہ کوہڑو میں نوجوانوں کے قائم کردہ چھوٹے سے سماجی بہبود کے دفتر اور خزینہ علم لائبریری میں بیٹھ کر اُستادعلی جان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مجھے اس علم دوست انسان کے خوابوں اور ہمت و حو صلے پر رشک آرہا تھا کہ غلامانہ نقطہ نظرسے اس یکسر پسماندہ علاقے کے نوجوان جاگتی آنکھوں سے کیسے بلند آہنگ اور ترنم ریزخواب بُن رہے ہیں اور ان کے یہ باوقارخواب دنیا کے کسی بھی خطے کی انقلابی کے خوابوں سے ہر گز کم نہ تھے،حالانکہ اس وقت قومی تحریک آج کی طرح بلوچستان کے ہر کو چک اور دمگ میں اپنی رحمتیں،برکتیں اور کرامتیں نہیں پھیلاچکاتھا۔استاد علی جان کو دیکھ کر پہلی بار مجھے کما حقہ‘ ادراک ہو ا کہ غلام اقوام کے با شعور فرزندوں کے آنکھوں سے شعلے نہیں لپکتے ہیں بلکہ وہ خواب بُنتے ہیں۔خوب صورت اور تانباک خوابیں۔۔۔غفلت کی نیند میں ڈوبے لوگوں کو جگانے والے خواب۔۔۔توپ کی گھن گرج والے خاموش خواب۔۔۔ کسے خبر تھی کہ انقلابی عمل شروع ہونے سے پہلے انقلابی خواب دیکھ کر اور پھر ”زمین زادے“ اُن خوابوں کی تعمیرکے لیے وقت آنے پر تن من کی بازی لگاتے ہیں اور جان سے گزرجا تے ہیں۔۔۔یہی تو استاد علی جان تھا اور اپنی خوابوں کی تعبیرپر فدا ہوا۔
جھاؤ کے اس چھوٹے سے لائبریری کو”بلوچیالوجی“ میں بدلنے کی خوابوں کے مالک اپنی تاریخ سے آشنا۔۔۔ ثقافت کی برکتوں سے آشناء۔۔۔گرانمایہ تہذیب کے ستونوں پر کھڑے آسمان بننے کے خواب دیکھنے والے استادعلی جان، نے پہلے قدم کے طور پر ثابت کردیا کہ بلوچ سرزمین کے جس ٹکڑے پر وہ رہتے ہیں،اس کانام جھاؤ نہیں بلکہ ”جاہ ِآہو“ ہے یہ مفرد نہیں بلکہ دو لقط کا مرکب ہے یعنی ”ہرنوں کا مسکن“ہے۔جو غلط العام جھاؤ بولا اور لکھا جاتاہے جس کا تاریخی،جغرافیائی یا تہذیبی پس منظر نہیں بنتا ہے یہ اور دیگر بے شمار بلوچی کلاسیک نام یا لفظوں کی غلط العام استعمال پر مصر ہونے کی وجہ قبضہ گیرانہ نفسیات کا وہ حصہ ہے جوہمیں تاریخ او ر تہذیب کی سوتوں سے یکسر پرے دھکیل کر شاداب و درخشندہ اثاثوں سے بیگانگی اور لاتعلقی کا شکار بنانا چاہتا ہے اور جب قومیں اپنی تاریخ سے کٹ جاتے ہیں تو ان میں ایک کربناک اور دردناک خلاء پیدا ہوجاتا ہے اور اسے پُر کرنے کے لئے دشمن کی تراشیدہ مصنوعی الّم غلّم تاریخ کو اپنے اندار سمو دیتا ہے۔۔
۔محض’جاہ آہو‘ کی نام کی چھوٹی مثال سے بڑی سبق سمجھانے والے علی جان کی پوری زندگی اس سے عبارت تھی۔اس میدا ن میں علی جان باغی تھا اور اس خلاء کو اپنی صدیوں کی اصل تاریخ ہی سے پُرکرناچاہتا تھا۔وہ اکثرکہتے کہ ”تاریخ وہ نہیں جو ہمیں پاکستان پڑھاتا ہے بلکہ اپنی تاریخ کا سراغ خود لگانا چاہیے یہ اتنا مشکل بھی نہیں،کیونکہ بلوچ کی تاریخ اتنی کمزور نہیں کہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے“۔
کتاب کا عاشق استاد علی جان کے تعلیمی میدان میں المیہ دیگر بلو چ نوجوانوں کے المیے سے ہرگز الگ نہ تھا۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی نوآبادیاتی تعلیم سے محض لکھت پڑھت کی مہارت تو حاصل ہوتی ہے۔مگر اصل آگاہی۔۔۔خود شناشی اپنی تاریخ، اپنی تہذیب کے دشت کی سیّاحی سے حاصل ہوتی ہے یہی المیہ ان کے لئے ایک ایسی تڑپ کا سبب بنا کہ علی جان کے اپنے الفاظ میں ”اوّل اوّل ایک تڑپ تھی مجھ میں، ایک آگ تھی جو ہر وقت بے چین کئے رکھتی۔ اپنے اندر ایک واضح خلا ء کے احساس نے مرغِ ِبسمل بنا رکھا تھا پھراس آگ کی حدت کو کم کرنے اور خلاء کو بھرنے کے لئے اپنی قومی تاریخ اور تہذیب کا مطالعہ میر ا اوڑھنا اور بچھونا بن گیا۔ساتھ ہی آثارِ قدیمہ کی جانچ پرکھ سے لگاؤ میرے لئے فطری بات تھی۔آگے جا کر میرے لئے تین خاص کام رہ گئے۔ اوّل،سکول میں بچوں کو نصاب کے ساتھ اپنی تاریخ و تہذیب کی تعلیم دینا۔ دوئم،ذاتی لائبریری میں پڑھنا اور دوستوں کو پڑھنے کی ترغیب دینا۔اور سوئم، دور ِ قدیم کے ٹیلوں،دمبوں کے آثار پر وقت صرف کرنا یہ میرے محبوب مشغلے تھے، گو کہ آثار ِ قدیمہ کامجھے علم تونہ تھا مگر ان کے دیکھ ریکھ سے اپنی تاریخ سے اپنا ئیت کا احساس دوبالا ہوتا۔ گراں بہا اور پُر مایہ تہذیبی اثاثوں کو دیکھ کر بحیثیت بلوچ مجھے ایک امیر تاریخ کے وراثت کے مالک ہونے کی فخر ہوتا“۔
جوں جوں اپنی تہذیب اور تاریخ سے آگاہی حاصل ہوتارہا تو میر ی تشنگی بڑھتا ہی رہا۔ آگے چل کر میں نے سوچا کہ محض پڑھنا اور قومی بے بسی پربے عملی سے محض سوچنا ۔۔۔ قومی خدمت اور تعمیری نقطہ نظر ہرگز نہیں تو اپنی پرسنل لائبریری سینکڑوں کتابیں اور رسائل و جرائد اٹھا کر دوستوں کی سنگت میں اس لائبریری کی بنیادرکھی وہ ایک یادگار دن تھی۔جس روز لائبریری کی افتتاح ہوئی تو کوہڑو میں عید کاسا سماں تھا،نوجوانوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے،جاہ ِ آہو کے چار سو ہماری سعی کی شہرت پھیلی تو خیر خواہ اور بد خواہ عیاں ہو گئے۔جہا ں یہ لائبریری علم کی متلاشیوں کے لئے ایک چشمہ ِ متبرکہ تھا، وہاں دشمن اور اس کے زر خرید گماشتوں اور حواریوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھنے لگا۔حیرانگی کی بات ہے کہ جناب کہ ایک چھوٹی لائبریری بھی جن لوگوں کو ناگوار گزرے تو دشمن کی پہچان بہت آسان ہوجاتا ہے۔اس سے ہماری یقین اس طرح پختہ ہوگیا کہ ہماری اپنی حقیقت سے آگاہی دشمن کے لئے پیام ِاجل ہے۔حالانکہ یہ وہ دور تھا جب اُستاد اور اس کے ساتھی قومی تحریک سے باقاعدہ منسلک نہیں تھے مگر ان کی بلوغت ایک خود آگاہ وخودبین انسان کی غمازی کرتا تھا۔ استاد نے مشکلات کا ذکر کیا اور ساتھیوں کے علم دوستی،انسان دوستی اور سماجی میدان میں انتھک محنت کابھی۔۔۔
اس وقت انہیں یقین تھا،سماجی خدمت کے سرشار ساتھی ’جاہ آہو‘کا نقشہ بدل دیں گے۔دوسری بار علی جا ن سے ملاقات کا شرف اس وقت حاصل نہ ہوا جب پانسہ پلٹ چکا تھا۔سن،۰۱۰۲ء جگہ، وہی کوہڑواور موقع، بلوچ نیشنل موؤمنٹ کا مرکزی کونسل سیشن۔۔۔پوسڑوں، بینروں اور وال چاکنگ سے پوری جاہ ِ آہو دلہن کی طرح سج چکا تھا۔۔۔ جگہ جگہ مقامی لوگوں کی جانب سے خیر مقدمی کلمہ درج تھے۔۔۔ استا دکی محلہ کوہڑو میزبان اور بلوچستان بھر سے انقلابی مہمان تھے۔۔۔ سماجی بہبود کے کمپان انقلابیوں کی آماجگا بن چکا تھا۔۔۔ استاد علی جان اور اس کے ساتھیوں کی خواب،آزادی کے عظیم کاروان میں صور ت پذیر ہورہے تھے۔۔۔اُن کی خواب تعبیر کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔ استادعلی جان کی رہنمائی تھی اور کوہڑوکے بلوچ فرزندوں کی مہمان نوازی تھی۔۔۔ مثالی نظم وضبط اورلازوال مہمان نوازی سے یہ تاریخی اہمیت کے حامل مرکزی سیشن اپنی منطقی انجام کو پہنچ چکا تھا۔
میرے لئے سماجی خدمت کا دم بھرنے والے علی جان کا یہ انقلابی روپ حیران کن تھا کیونکہ آج کے بلوچستان میں انقلابی عمل کے حصے بننے کا مطلب باقی تمام کاروبارِ زندگی کوتیاگ دینا ہوتاہے۔۔۔ سماجی بہبود لانے والے سماجی کارکن سے انقلابی بننے کے سفر میں چھپی راز میں شاید میں سمجھ نہ سکا۔اس لئے استاد علی جان سے دریافت کیا کہ”اُستاد،سماجی بہبود پر یقین رکھنے والے علی جان انقلابی عمل کا حصہ کیونکر بنا۔کیا یہ گھاٹا نہیں؟“
یہ سن کر اپنے مخصوص اور مدلل انداز میں بولے ”سورگ ءَ سواس کن تانکہ ریدگ ءَ بہ رس“اور”عشقِ حقیقی“ تک پہنچنے کے لئے مجازی عشق کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے، ہماری ساتھ بھی یہی ہوا۔حقیقت جناب یہ کہ محض سماجی بہبود کانقطہ نظر غلاموں کیلئے زہرِ قاتل ہے۔۔۔اندر سے کھوکھلاکرنے والی زہر۔۔۔دراصل یہ فلسفہ سرمایہ داریت اور قبضہ گیریت کے کھوکھ میں جنما ہے۔تضادات سے بھر پوراقوام میں یہ سماجی بہبود کا فلسفہ چھوٹے چھوٹے تضادات کا خاتمہ کرکے قومی سوال اور بڑے تضادات کی جانب بڑھنے سے پاؤ ں بیڑھیاں ڈال دیتی ہے،قومی سوچ پر گرد جم جاتی ہے،تخلیقی ذہنیت سوجاتی ہے اور انسان تقلیدِ محض بن کر رہ جاتی ہے۔سماج کے بنیادی مسائل کے حل کی آڑ میں ایک سطحی انفرادی ترقی کے لئے نوجوان طبقہ سرکاری،غیر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی خاص شکار بن جاتی ہے۔ جنہیں عرفِ عام میں این جی اوز کہا جاتاہے۔اوائل میں ہم نے بھی سماجی بہبود کا نقطہ نظر اپناکر کام شروع کیا، اپنی جمع پونجی لگائی، این جی اوز کو دعوت دی۔ بلآخر یہ راز کھلاکہ ہر این جی اوز سماجی بہبود کے لبادھے میں کوئی اور سامراجی ایجنڈے لے کر یہاں تشریف لاتاہے۔تھوڑی سی شیرینی کھلاکر سماجی بہبود کے خوب صورت پیکٹ میں بند اپنے اپنے آقاؤں کے سَم نگلنے پر مجبور کرتے ہیں۔۔۔اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے ہماری تہذیب، ہماری تاریخ اور ہماری روایات پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔اور مختلف حوالے دے دے کر ہمیں پسماندہ،اُجڈ، گنوار اور جہالت زدہ قرار دینے کی کوشش بڑی خوب صورتی سے کرتے ہیں اور ایک مصنوعی ”ماڈرن لائف سٹائل“اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ زمین میں پیوست خوابوں کی جگہ پر آنکھوں میں روپے کی چمک چڑھاتے ہیں۔
غرضیکہ انفرادی ترقی کو انسان کی معراج ثابت کرنے کی کوشش اُن کی نصاب کا تو اوّلین باب ہے۔المیہ دیکھیے، چھوٹے چھوٹے تضادات ختم کرنے سے لوگ بھی قدرے مطمئن ہوجایا کرتے ہیں۔ مگر بڑی تضاداندر ہی اندر لاوے کی سی صورت اختیار کرتی ہے۔ فطری بات ہے کہ جی،یہ حل کی جانب راہ نہ پاکر پلٹ پڑتی ہے، آتش فشان کی صورت واہی تباہی لاتی ہے اور جل ہم جاتے ہیں۔تضادات کے اصل ماخذبڑی تضاد کی ادراک نہ کرنے والے قوموں کے ساتھ بارہا ایسا ہوا ہے تو جناب!اِن حقائق کو مدِ نظر رکھ کر ہم باقاعدہ انقلابی عمل کا حصہ بن گئے۔ جب تک دنیا کے کسی بھی خطے میں مرکزیت رکھنے والی بڑی تضاد مو جود ہے تو چھوٹے تضاد جنم لیتے رہتے ہیں،ان کا وقتی حل دیر پاء نہیں ہوتا“ استاد نے میرے سوال کا اِس مفصل صورت میں جواب دیا کہ میرے پاس مزید سوال ہی نہیں رہ گئے۔ہم بہت خوش تھے کہ ایک عالمِ باعمل انسان انقلابی عمل کا حصہ بن چکاہے۔ بلوچ نیشنل موؤ منٹ میں اُستاد علی جان کی فہم و دانش،فکر و تدبراورقومی تاریخ و تہذیب کی جانکاری پارٹی کے لئے انمول اثاثہ تھا۔
میٹنگوں میں رائے مدلل تھی۔۔۔تحریر میں بحث مفصل تھی۔۔۔قومی رسائل وجرائد میں انکی قلمی نام سے بے شمار مضامین چھپے۔۔۔اُن کی اصل خاصیت یہ تھی کہ بحث یا تحریر کے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے اور بیسیوں کتابوں کی چھان بین کرکے روشنی ڈالتے تھے،لیکن لہجہ دھیما اور شخصیت میں استحکام اور استقلال ان کاطرّہ امتیاز تھا۔ اب وہ کُل وقتی طور پر پارٹی کے لئے وقف ہوچکے تھے۔ پارٹی ورکروں کی سیاسی تربیت اور تحقیق و تحریر اُن کی زندگی کا حاصل تھا۔یہ اُن کی سیاسی تربیت کے ثمرات ہیں کہ آج ’جاہ آہو‘ کے اکثر نوجوان راجی سنگر میں سرگرم عمل ہیں۔کتاب سے عشق کا یہ عالم تھا کہ کتاب اور قلم استاد کی شخصیت کے ناقابل ِ جدا حصہ بن چکے تھے۔ موصوف دلائل دے دے کر کہتے ”کتاب اور قلم کے بغیر نہ صرف انفرادی طور پر انسان بلکہ اجتماعی طور پر قومی تحریکیں بھی نامکمل ہوتی ہیں۔ کتاب کو رہنما اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے قطب نما بناناپڑتا ہے“۔اس حقیقت پر روشنی ڈالنا یقیناََبے سود نہیں ہوگا کہ’جاہ ِ آہو‘ کے بارے میں قبضہ گیر سب سے زیادہ مطمئن تھی۔
دشمن اور اس کے گماشتے کیا کیا نہ کرچکے تھے۔قومی تحریک سے اس زرخیز خطے کو بیگانہ اور لاتعلق کرنے کے لئے 1976ء کو جاہ ِ آہو کے علاقے احمد برامی نے بلوچ ماں اور بہن شہید مائی پیراڑی اور شہید مائی سومری کی قربانی کے بارے میں نئی نسل معلوم تک نہ تھی۔پوری ریجن میں ’جاہ ِ آہو‘ہی وہ علاقہ تھا کہ دشمن کو یہاں سے کسی چنگاری اُٹھنے کوکوئی خدشہ نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب قومی تحریکِ آزادی کے عمل نے اپنی دائرہ کاراس سرزمین پر پھیلایا تو شہیداُستاد علی جان او ر شہیدناکو خیربخش سمیت بے شمارنوجوان تو جیسے جنم جنم سے اس کی منتظر تھے۔یہ انقلابی سوچ اور قومی فکر،قبل از پارٹی اُستا د کی سیاسی تربیت،محنت اور علمی ماحول کا اثر آفرینی تھا۔ اُستاد علی جان سربرآوردہ شخص تھے۔اس لئے دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی۔شاید دشمن کی سوچ بھی یہی تھی کہ سب کچھ اِسی ایک فرد کا کیا دھر ا ہے اور اسے منظر سے ہٹا کر وہ معاملات اپنی حق میں لا سکتا ہے اور پھر مختلف تیاریوں جس میں ملاّ کی شش نمبر سے لے کر علاقاعی دلاروں کی ہمکاری سے نے چالیس گاڑیوں پر مشتمل فوجی دستے پر اس عظیم انسان پر ہلہ بول دیا۔تاریخ بلوچ کے امین استاد علی جان نے اپنی مدّمقابل تین فوجی مار گرا کر جام ِ شہادت نوش کیا۔دشمن کو چونکہ علی جان کی علم سے خطرہ تھا۔
اس لئے اُن کے گھر میں موجود بے شمار نایاب کتابیں اوراُن کی تحقیق پر مبنی غیرمطبوعہ تحریریں بھی دشمن اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔اُستاد کی شہادت سے قبل اسی سرزمین پر ناکو خیر بخش بھی شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوچکا تھااور اب استادنے سرزمین کاقرض ادا کرکے سرخ رو ہوئے ۔ یہ انہی شہدا ء کے لہو کی برکت ہے کہ جاہِ آہو کے فرزندراجی سنگر میں تندہی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔اسی جاہِ آہو میں ریاستی ایجنٹ چارسو ٹھپہ مار، ووٹ کے ساتھ جدید دنیا کی انتخابی تاریخ میں رسوائے زمانہ کردار بن چکے ہیں۔۔۔اسی جاہِ آہومیں دشمن کے لئے مووکرناناممکن ہو چکاہے(اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لئے پاکستان نے پچاس سے زائدچھوٹے بڑے کیمپ اور چوکیوں کی جال بچھایاہے)۔۔۔علی جان کی علم اورسیاسی فلسفہ نوجوانوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔۔۔شہداء کے اصل سفر اُن کی زندگی کے بعد شروع ہوتی ہے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہمارے شہید غازی ہیں۔
نوٹ:یہ مضمون جنوری 2014 میں ماہنامہ سنگر میں نور الدین کے نام سے شائع ہوا ہے، جو بی این اہم کے موجودہ سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ کا قلمی نام تھا۔ انکے کئی نایاب تحاریر ادارہ کے پاس محفوظ ہیں جو انہوں نے مختلف ناموں سے تحریر کیے ہیں۔