پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک اورشخص ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان میں مبینہ توہین مذہب کے الزام میںمشتعل ہجوم نے ایک اورشخص ہلاک کو ہلاک کردیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک تھانے پر دھاوا بول کر وہاں زیر حراست ایک مشتبہ ملزم کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

شہر ننکانہ صاحب میں پیش آنے والے اس واقعے کے مقتول پر مبینہ توہین مذہب کا الزام تھا۔

مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مراسلوں کے مطابق مشتبہ ملزم کو پولیس کی حراست سے چھڑا کر اور اسے تشدد کر کے قتل کرنے کا یہ واقعہ صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب کے ایک مقامی تھانے میں اور پھر اس کے سامنے ہفتہ گیارہ فروری کے روز پیش آیا، جس کی خود پولیس نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

یہ ہلاکت پاکستان میں مبینہ توہین مذہب کے الزامات یا عقیدے سے جڑے دیگر مبینہ جرائم کے نتیجے میں قتل کے واقعات کی تازہ ترین مثال ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پولیس کے ایک ترجمان محمد وقاص نے بتایا کہ مقتول کا نام محمد وارث تھا اور اس کی عمر بیس اور پچیس برس کے درمیان تھی۔

اسے آج ہفتے کے روز ہی اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب ایک مشتعل ہجوم نے اس پر یہ الزام لگاتے ہوئے تشدد کرنا شروع کر دیا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی بے حرمتی کی تھی۔ بعد میں جب یہ مبینہ ملزم پولیس کی تحویل میں تھا، تو اسی ہجوم نے متعلقہ تھانے پر بھی دھاوا بول دیا۔

پولیس ترجمان محمد وقاص نے روئٹرز کو بتایاکہ مشتعل ہجوم نے تھانے پر دھاوا بول کر مبینہ ملزم محمد وارث کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکالا اور اس پر اتنا تشدد کیا کہ وہ ہلاک ہو گیا۔‘‘ پولیس ترجمان کے بقول اس ہجوم میں شامل افراد نے بعد ازاں مقتول کی لاش کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی۔

پولیس کی طرف سے بعد ازاں کہا گیاکہ اس واقعے کے وقت متعلقہ تھانے میں گنتی کے محض چند ہی اہلکار موجود تھے اور وہ محمد وارث کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے مشتعل ہجوم پر قابو نہ پا سکے۔‘‘

پولیس کی طرف سے اس واقعے کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ مشتعل ہجوم پر قابو پانے میں ناکام رہنے پر چند پولیس اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment