کراچی: بلوچ لاپتہ افراد کااحتجاجی کیمپ جاری،سورٹھ لوہاروسارنگ جویوکی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراداور شہداء کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ جاری ہے جسے 4943 دن ہوگئے ہیں۔

وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کے کنوینر سورٹھ، سندھ سجاگی کے کنوینر سارنگ جویو اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچوں سندھیوں پشتون کی بے گور و کفن لاشوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے ماورائے قتل کے بعد بیابانوں میں ہمارے فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں بے رحمانہ انداز میں پھینکی جارہی ہیں، ٹارچر سیلوں میں اذیتیں پہنچا کر دل کی بھڑاس پوری نہیں ہورہی شاید جسکی وجہ سے لاشیں ویرانوں میں پھینکی جارہی ہیں کبھی ہمارے نوجوانوں کو خفیہ اغوا کر کے ٹارچر سیلوں میں مقید بنایا جارہا ہے جب انہیں کوئی تدبیر سوجھتی ہے وہ یکدم ہمارے فرزندان وطن کو بطور دہشت گرد کے سامنے لایا جاتا ہے اور الزامات جھوٹ پر مبنی مختلف پروپیگنڈے بزریعہ میڈیا پیش کیا جاتا ہے لیکن ہم گلہ مند نہیں کبھی وہ ہمارے ان سجیلے جوانوں کو ٹارچر سیلوں سے نکال کر میدانوں میں اسکواڈ شرٹ کے ذریعے ان کے جسموں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے بعد اذاں یہی ڈرامہ رچایا جاتا ہے کہ انہیں پولیس یا سی ٹی ڈی مقابلے میں ہلاک کردیا ان کا تعلق کالعدم تنظیموں سے جوڑا جاتا ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ معاشرے میں ہر شخص ہر قوم کے فرد کو سیاسی مذہبی سماجی سرگرمیاں جاری رکھنے کا بنیادی حق حاصل ہے لیکن ہمارے سیاسی کارکن جبری اغوا ہوجاتے ہیں اہل و عیال شدید ذہنی کوفت کا شکار ہوجاتے ہیں بھوک ہڑتالی کیمپ لگتے ہیں بلوچ سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے وہ گنگے بنے ہیں بہرے بنے ہیں کان کو جوں تک نہیں رینگتی بے حرمتی کا اندازہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ شہید کر کے چہرے کو تیز دھار نوک سے جسم کے چمڑے پر مردہ باد اور زندہ باد کے نارے لکھے جاتے ہیں ہزاروں کارکنوں سیاسی و غیر سیاسی فرزندان وطن کو خفیہ اداروں والے جبری اغوا کر کے ٹارچر سیلوں کی زینت بنایا جاتا ہے جن کا تاحال اتہ پتا نہیں آیا وہ زندہ بھی ہیں یا شہید۔

Share This Article
Leave a Comment