انڈیا میں کم عمرلڑکیوں سے شادی پر 1800 افراد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بھارتی ریاست آسام میں پولیس نے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنے یا ان سے شادی کروانے کے الزام میں ایک کریک ڈاؤن کے دوران 1800ے زیادہ مردوں کو گرفتار کرلیا ہے جو ریاست کے وزیر اعلیٰ کے مطابق اس طریقہ کا رکے خلاف ایک مسلسل مہم کا آغازہے۔

ہمانتا بسوا سرما نے رائٹرز کو بتایا کہ پولیس نے گرفتاریاں جمعرات کی رات شروع کی تھیں، اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے، ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے مندروں اور مساجد میں ایسی شادیوں کو رجسٹر کروانے میں مدد کی تھی۔

انہوں نے کہا، ”کم عمری میں ما ں بننے کی بنیادی وجہ بچپن کی شادیاں ہی ہیں، جس کے نتیجے میں ماں اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔“

بھارت میں 18 سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی ہے لیکن اس قانون کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ بھارت میں دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں نابالغ دلہنیں ہیں جن کی تعداد تقریباً 22 کروڑ تیس لاکھ ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے اپنی 2020 کی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ بھارت میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ کروڑ کم عمر لڑکیوں کی شادی ہو جاتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment