روس کے سابق صدر اور موجودہ صدر ولادیمیر پوٹن کے قریبی اتحادی دمیتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر اپنے ایک بیان میں آج جمعرات انیس جنوری کے روز لکھا، ”ایک ایٹمی طاقت کی ایک روایتی جنگ میں شکست جوہری ہتھیاروں سے جنگ شروع ہو جانے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔“
سن 2008ء سے لے کر 2012ء تک صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے دمیتری میدویدیف موجودہ صدر پوٹن کی قیادت میں قائم روس کی بہت طاقت ور سکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ بھی ہیں۔
انہوں نے ٹیلیگرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ”ایٹمی طاقتیں آج تک کے ایسے بڑے تنازعات میں کبھی ناکام نہیں رہیں جو ان کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہوں۔“
دمیتری میدویدیف نے اپنا یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہے جب کل جمعہ بیس جنوری کے روز جرمنی میں رامشٹائن کے فضائی اڈے پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کا ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے۔
دمیتری میدویدیف نے اپنے بیان میں لکھا کہ نیٹو کی رکن ریاستوں اور دیگر ممالک کے وزرائے دفاع کو اس بارے میں بھی غور کرنا چاہیے کہ ان کی حکمت عملی اپنے اندر کس کس طرح کے خطرات لیے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے ساتھ گزشتہ برس فروری کے اواخر میں شروع ہونے والے جنگ تقریباً گیارہ ماہ سے جاری ہے اور اس میں اب تک دونوں جنگی فریقوں کا بے تحاشا جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے۔