ایران کا خامنہ ای کے کارٹونز کی اشاعت پر فرانس کودھمکی

0
180
Cartoon : LP ( Italie ) charliehebdo

ایران نے خامنہ ای کے کارٹونز کی اشاعت پر فرانس کو اس کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

یاد رہے کہ فرانس کے معروف طنزیہ جریدہ ”چارلی ہیبڈو” نے ایرانی مظاہرین کی حمایت میں ایک خصوصی ایڈیشن شائع کردیا ہے جس میں ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی و مذہبی شخصیت اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کوہدف بنایا گیاہے۔

میگزین میں خامنہ ای پر 300 کارٹون شامل ہیں۔جس میں کارٹونسٹوں نے خامنہ ای کو خواتین کے بالوں سے پھانسی دیتے ہوئے دکھایا گیاہے اور متعددجگہوں پر اسے کو مختلف پوز میں دکھایا گیا ہے۔ خامنہ ای کو مہلک ہتھیار اور دیگر چیزیں پکڑے دکھایا گیا۔ بعض کارٹونز میں وہ مظاہرین کی طرف سے مار پیٹ اور گھونسے مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، سب سے اہم خیال جس پر مصوروں نے کام کیا وہ تھا خامنہ ای کو احتجاج کرنے والی خواتین کے بالوں سے لٹکایا گیا تھا۔

اس پرایران نے تہران میں فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے سخت اعتراض کیا اور فرانس کو ان مبینہ طور پر اہانت آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے نتائج سے خبردار کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ایک ٹویٹ میں کہا، ”مذہبی اور سیاسی اتھارٹی کے خلاف ایک فرانسیسی میگزین کی توہین آمیز اور ناشائستہ حرکت کو موثر اور فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا ”ہم فرانسیسی حکومت کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے یقینا ایک غلط راستے کا انتخاب کیا ہے۔”

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ فرانس کو آزادی اظہار کے بہانے دوسرے مسلم ممالک اور اقوام کی مقدس چیزوں کی توہین کا کوئی حق نہیں ہے۔

 بدھ کو ایران کی وزارت خارجہ نے فرانسیسی سفیر نکولس روشے کو طلب کیا اور فرانسیسی میگزین کی حرکت پر سخت اعتراض درج کرایا۔

کنعانی نے مزید کہا کہ ”ایران فرانسیسی میگزین کے ناقابل قبول رویے کے حوالے سے فرانسیسی حکومت کی وضاحت اور جوابی اقدام کا انتظار کر رہا ہے۔”

ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران چارلی ایبدو کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے فرانس کے متعلقہ حکام سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اس میگزین کے ان اقدامات سے نمٹنے کے لیے ضروری اور فوری اقدام کریں گے تاکہ توہین اور نفرت کی اس مہم کو جاری رکھنے سے روکا جا سکے کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر نقصان دہ اور تباہ کن اثرات مرتب کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here