کوئٹہ: لاپتہ افراد احتجاجی کیمپ جاری،ہمیں مزید اذیت دی جا رہی ہے،سائرہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4912 دن مکمل ہوگئے ہیں۔

پنجگور سے سیاسی سماجی کارکنان داد محمد، نور محمد بلوچ سمیت دیگر مرد اور خواتین نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

کیمپ میں نوشکی سے جبری لاپتہ عبدالرشید بلوچ اور آصف بلوچ کی بہن سائرہ بلوچ دیگر لواحقین کے ساتھ بیٹھے رہے۔

؎سائرہ بلوچ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم پچھلے پانچ سالوں سے اپنے بھائیوں کی بازیابی کیلئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، حکومتی قائم کردہ کمیشن، کورٹس اور جی آئی ٹی کے سامنے بھی پیش ہوتے رہے ہیں، ہمیں یہ کہہ کر مزید ٹارچر کیا جاتا ہے کہ میرے بھائی لاپتہ نہیں ہیں، حالانکہ انکی جبری گمشدگی کے تمام ثبوت آن دی ریکارڈ موجود ہیں اور انکے ساتھ اٹھائے گئے دیگر لوگ بعد میں رہا بھی ہوئے ہیں۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے پورے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی وجود نے آج اکیسوی صدی میں عالم انسان کی انسانیت و امن تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے دسمبر کے مہینے میں بلوچوں کے لہو سے سرزمین کی آبیاری کی تاکہ مظلوم و محکوم اقوام کو زیر دست کیا جا سکے دسمبر 2022 بھی سراپا لہو لہان رہا جہاں ریاستی قابض فورسز نے اپنی نئی نام نہاد بلوچیت کے دعویدار خفیہ ادارے دیگر کرایہ کے نمائندوں کے ساتھ مل کر مقبوضہ بلوچستان میں خون کی ہولی کو ایسے کھیلا کہ دسمبر کے مہینے کا ہر دن ہر گھنٹہ ہر سیکنڈ لہو میں نہلایا گیا نومبر دسمبر کے مہینے کا آغاز ریاستی فورسز نے بولان ہارنائی مستونگ قلات اور مکران کے مختلف علاقوں میں بلوچ فرزندوں کے جبری اغوا شہادت سے کیا ایسے بھی لاشیں ملی جن کی شناخت نہ ہو سکی۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچوں کے لیے وسیع عریض زمین تنگ و دشوار گزار کسی قسم کی سہولت شہروں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے درجنوں بلوچ فرزندو کی شہادت جبری اغوا آپریشن ریاستی بربریت کی خبر صرف اسی جگہ زمین کی گود میں پرامن جدوجہد کے جڑوں کو مظبوط کر جاتی ہے اسی لئے ابھی تک صد فیصد اور یقینی طور پر مکمل جامع دستاویز بھی سامنے نہ آ سکا ہے جبکہ جو دستیاب معلومات ہوتی ہے ایک مشترک نظم نہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اپنے حوالے سے اپنی مرتب کردہ اعدادوشمار کو شائع کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روز مقبوضہ بلوچستان میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے بلوچ قوم کے لیے آرام آسودگی صرف فرزندو کی بازیابی کی سورج کی طلوع ہونے کے ساتھ ہی آتی ہے مگر باہمت بلوچ مائیں بہنیں آج بھی اپنے فرزندو کی شہادتوں اغوا پر ذرہ بھی نالاں نہیں۔ چائے مسلمانوں کا کوئی بھی تہوار وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آئنگے اور لاپتہ افراد شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود دنیا کو پاکستانی ریاست کے ظلم جبر سے آگاہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment