پاکستان کے علاقے رحیم یار خان سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تاج پور پیروالا میں لغاری بستی میں لغاری قبیلے کے 12 افراد پراسرار بیماری سے ہلاک ہوگئے ہیں۔
ڈاکٹرز کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ بیماری دماغ کی سوزش ہو سکتی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر حسان خان نے اموات کی تصدیق کردی ہے۔
متاثرین کے رشتہ دار کمال خان لغاری کے مطابق یہ نامعلوم بیماری پہلی بار لغاری قبیلے میں تقریباً 14 دن پہلے رپورٹ ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ 9 سالہ سلمیٰ بی بی اور 10 سالہ عمیرہ کو ہلکا بخار ہوگیا تھا، بعد ازاں شدید درد اور پیسنے کے ساتھ بخار میں اضافہ ہوگیا تھا۔
کمال خان لغاری نے کہا کہ مریضوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں 2 دن بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے چند دن بعد اسی قبیلے کے مزید 10 افراد کو انہی علامات کی وجہ سے بھلوال وکٹوریا ہسپتال، شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال (ایس زی ایم سی ایچ) اور الخالد ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔
ان میں سے 7 سالہ محمد آصف پیر کی رات اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم لغاری کا کہناہے ایک فزیشن، ماہر اطفال اور کمیونٹی میڈیسن کے ماہر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے، جو معاملے کی تحقیقات کر کے 7 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرین شدید وائرل میننجوئنسفلائٹس (meningoencephalitis) کے عارضے میں مبتلا تھے لیکن حتمی فیصلے پر تحقیقات کے بعد ہی پہنچ سکتے ہیں، میننجوئنسفلائٹس دماغ کی ایک سوزش ہے۔