بلوچ راج کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گوادر کے عوام پچھلے تین ماہ سے پُرامن احتجاج کر رہے تھے، کہ ان کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کر کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ لیکن ان تین ماہ میں انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی پیش رفت نہ ہوسکی۔ حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی دھرنے پر تشدد کا استعمال کیا گیا۔ جس میں گوادر کے ایک مقامی باشندے کو شہید اور درجنوں کی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ جو کہ گوادر اور وہاں کے رہنے والے مقامی باشندوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پچھلے تین ماہ سے دھرنے میں بیٹھے لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا گیا اور بلوچ روایات کے خلاف چادر اور چار دیواری کی تقدس کی پامالی کی گئی اور بلوچ خواتین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس کے ساتھ گوادر دھرنے کے قیادت کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں محترم جناب حسین واڈیلہ بلوچ اور ہدایت الرحمان شامل ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ گوادر کے مسائل حل کرنے کی بجائے گوادر سمیت باقی قریبی علاقوں میں دفعہ 144 کے نفاذ سے عوام کے مشکلات میں اصافہ کیا جا رہا ہے۔
بلوچ راج کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ ہم گوادر انتظامیہ اور بلوچستان حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ جلد از جلد اس معاملے کا مکمل طور پر نوٹس لیا جائے، فوری طور پر گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے اور ان کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔