کوئٹہ میں شدید سردی وبارشوں میں بھی وی بی ایم پی کا احتجاج جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ شدید سردی وبارشوں کے باوجود بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری جسے 4905 دن مکمل ہوگئے ہیں۔

بلوچ وطن پارٹی کے کارکنوں ظفر بلوچ اور منیر بلوچ سمیت دوسرے لوگوں نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔

کوئٹہ میں سردی کی شدت اور بارشوں کے باوجود وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کیمپ میں بیٹھے رہے، جبکہ اس موقع پر اس نے لوگوں سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم جدوجہد کو انسانی فریضہ سمجھ کے ادا کرتے ہیں، حالات کے نامناسب یا سختی سے جدوجہد کو چھوڑا نہیں جا سکتا، پاکستانی ریاست بلوچ عوام کو جدوجہد سے دور کرنے اور ختم کرنے کیلئے بلوچ قوم کے ڈاکٹر، پروفیسرز، استاد اور دانشور کو شہید کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکران میں پچھلے چار دنوں سے حالات کشیدہ ہیں، گوادر کو فورسز نے محاصرے میں لے رکھا ہے، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، وہاں سے اطلاعات کے مطابق اب تک سینکڑوں لوگوں کو گھروں میں گھس کر گرفتار کر لیا گیا ہے جن کا کچھ پتہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی خفیہ اداروں کی طرف سے ہمیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں تاکہ ہم جبری لاپتہ افراد کیلئے جاری پر امن احتجاج کو ختم کریں، ہم تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، اور پاکستانی فورسز کے گھناؤنے حرکتوں کو دنیا کے سامنے لاتے رہیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment