ترک اسکالرز اور طلبا سے آن لائن گفتگو میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم اورچیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا کہ ہم افغانستان گئے 40 ہزار افراد کی پاکستان میں آباد کاری چاہتے تھے جن میں سے 5 سے 10 ہزار جنگجو بھی تھے مگر نئی حکومت نے اس معاملے پر زیادہ توجہ نہیں دی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ جب میری حکومت گئی تو سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی توجہ ٹی ٹی پی سے ہٹ گئی اور انہیں اُبھرنے کا موقع مل گیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست نہیں تھی، ہم امریکی ڈالرز کے لیے دوسروں کی جنگ لڑتے رہے، افغان طالبان اور پاکستانی طالبان میں فرق کرنا چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ چین اور ترکی نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے، مسئلہ کشمیر پر چین اور ترکی کے سوا کوئی ملک ہمارے ساتھ نہیں کھڑا ہوا، ہم یوکرین جنگ کا حصہ کیوں بنیں جب ہمارے معاملات میں مغربی ممالک ہمارے ساتھ نہیں ہوتے، میں نے چین جیسی طویل مدتی پلاننگ کسی اور ملک میں نہیں دیکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایغور جیسے مسائل پر چین کی ہمارے ساتھ بند دروازے میں بات چیت ہوتی ہے، میرے لیے سب سے اہم بات ہے کہ مسلم ملکوں کو عزت اور وقار کے ساتھ رہنا چاہیے، جب کوئی ملک مسلسل بیرونی قرضے لیتا ہے تو وہ دوسروں کی بات ماننے پر مجبور ہوتا ہے، مسلسل قرضہ لینے والا ملک خود مختار نہیں رہتا، میں نے اپنے دور حکومت میں ترکیہ کے ساتھ تجارتی تعلقات مستحکم بنانیکی پالیسی اپنائی۔