بلوچستان اور افغانستان میں بندوق کی طاقت پر قابض و جابر حکمرانوں کیخلاف تن تنہا اشخاص کامریڈ فقیر محمد بلوچ اور مروہ کا احتجاج ان کی طاقت کو للکار نے کا سمبل بن گیا۔
بلوچستان کے علاقے حب کے سماجی ورکرکامریڈ فقیر محمد بلو چ گزشتہ روز تن تنہا لسبیلہ پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے اور سانحہ بیلہ میں ہلاک ہونیوالوں کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنے کے مطالبات پوسٹر لسبیلہ پریس کلب کے سامنے آویزاں کردیا۔
دوسری جانب افغانستان میں ایک اکیلی 18 سالہ افغان طالبہ نے ہفتے کے آخر میں کابل یونیورسٹی کیمپس کے داخلی دروازے کے قریب طالبان کے طعنوں تشنوں کو برداشت کرتے ہوئے یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف حتجاج کیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں گیس سلنڈر پھٹنے کا ایک سانحہ ہواجس سے 19 سے زائد انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
کامریڈ فقیر محمد بلو چ کی تن تنہا بھوک ہڑتالی احتجاج کوسیاسی، سماجی وعوامی حلقوں نے سراہااور اسے طاقت ور وجابر حکمرانوں کو للکار کا سمبل قرار دیا۔
مختلف سیاسی وسماجی جماعتوں وتنظیموں کے عہدیداران و اراکین و مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھوک ہڑتال میں بیٹھے کامریڈ فقیر محمد بلوچ سے اظہار یکجہتی کیا اور حکومت سے سانحہ بیلہ میں ہلاک ہونیوالوں کے لواحقین اور زخمیوں کو فوری معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
افغانستان میں اتوار کے روز، کابل یونیورسٹی کے دروازے پر تعینات طالبان گارڈز کے سامنے، مروہ نامی ایک 18 سال کی طالبہ نے بلا خوف کھڑے ہوکر ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پرعربی لفظ لکھا تھا ”اقرا“، جس کا مطلب ہے”پڑھو“”۔
مروہ کا احتجاج اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ طالبان کی واپسی کے بعد سے خواتین کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے افغانستان میں تیزی سے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، خاص طور پر سال کے آغاز میں اہم سرگرم کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے۔
مروہ نے ایجنسی فرانس پریس سے بات کرتے ہوئے کہا،کہ انہوں نے مجھ سے بہت قابل اعتراض باتیں کہیں، لیکن میں پرسکون رہی۔
مروہ نے اے ایف پی کو بتایا،کہ اپنی زندگی میں پہلی بار میں نے اتنا فخر، اورخود کو اتنامضبوط اور طاقتور محسوس کیا کیونکہ میں ان کے خلاف کھڑ ی ہوکروہ حق مانگ رہی تھی جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ میں ایک واحد افغان لڑکی کی طاقت دکھانا چاہتی تھی، اور یہ کہ ایک تنہا فرد بھی ظلم کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔
مروا نے کہا کہ جب میری دوسری بہنیں د یکھیں گی کہ ایک اکیلی لڑکی طالبان کے خلاف کھڑی ہوئی ہے، تو اس سے انہیں بھی اٹھ کر کھڑے ہونے اور طالبان کو شکست دینے میں مدد ملے گی۔
مروہ نے کہا کہ میں قید نہیں ہونا چاہتی۔ میرے ببہت سے خواب ہیں جنہیں میں حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
”اسی لیے میں نے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔“
اردو کے ایک معروف کہانی کار و شاعر احمد ہمیش نے ایک بار کہا تھا کہ جنگ گروہ نہیں ایک اکیلاشخص لڑتاہے۔کامریڈفقیر محمد بلوچ و افغان طالبہ مروہ اکیلئے جنگ لڑ رہے ہیں جس سے دوسری کو اکیلے جنگ لڑنے کی طاقت وہمت آئے گی۔