گوادر میں حق دو تحریک کے دھرنے پر پولیس کے حملے، تشددو گرفتاریوں کیکیخلاف پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کے بعدبلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمن نے حکومتی وفد سے مذاکرات میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے کوشش کی کہ حق دو تحریک کے مطالبات منظور کرکے لوگوں کے مسائل حل کریں لیکن مولانا ہدایت الرحمن نے ریاست کیخلاف علم بغاوت بلند کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک کے مطالبات منظور کرکے ہی ہم نے دھرنا ختم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے حق دو تحریک سے خود مذاکرات کیے لیکن مولانا ہدایت الرحمن نے اپنی سیاست چمکانے کیلئے دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ حق دو تحریک کے دھرنے کی وجہ سے سی پیک شاہراہ کی بند تھی جس کے باعث سی پیک کا کام متاثر ہورہا تھا۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ پرامن طور پر دھرنے کے مطالبات منظور کیے جائیں لیکن مولانا ہدایت الرحمن نے مذاکرات میں شرکت نہیں کی اور اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حق دو تحریک کے ایک سال سے جاری احتجاج اور دھرنوں کو کچھ نہیں کہا لیکن ذاتی مفادات حاصل کرنے کیلئے وہ عوام کو غلط راہ پر لے جارہے ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن حکومت کو دھمکیاں دیتے رہے ہم نے کچھ نہیں کہا۔ کسی کو بھی بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ سی پیک بلوچستان کی ترقی ہے لیکن ہمارے مہمان اور بھائی چائنیز کیخلاف بھی انہوں نے تقریریں کیں جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔
دوسری جانب ترجمان بلوچستان پولیس نے گوادر میں حق دو تحریک کے دھرنے کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ مولانا ھدایت نے حکومت بلوچستان کی جانب سے تحریک کے مطالبات پر سنجیدہ پیشرفت پر ایک غیر سنجیدہ رویہ اپنایا جو انتہاء افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہاکہ گوادر کے مسائل کا حل پر تشدد سیاست میں نہیں بلکہ قانون کی عملداری اور معاشی ترقی میں ہے۔مولانا صاحب نے مسائل کے حل پر توجہ دینے کی بجائے اپنی سستی شہرت کو بڑھانے اور اپنی سیاست چمکانے کو ترجیح دی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دو مہینے سے ضلعی انتظامیہ اور برد ازاں صوباء وزیر داخلہ کی سربراہی میں وزراء کے وفد سے ہونے والی بات چیت میں بھی مولانا کی جانب سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔
پولیس کے مطابق تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کا فائدہ مخصوص مفاد پرست لوگوں کو تو ہو سکتا ہے لیکن گوادر کے عوام کے دیرینہ مسائل کا حل امن پسند ی اور گفت و شنید میں ہی ہے۔ بلوچستان پولیس گوادر کی عوام کو انتہاء عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے ساتھ مل کر گوادر کا امن بحال رکھنا چاہتی ہے مگر مولانا صاحب عام شہریوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔