اتوار کے روزبلوچستان دھماکوں سے گونج اٹھا، ایک ہی روز میں پاکستانی فورسزاورمعدنیات لے جانے والی گاڈیوں پر یکے بعد دیگر ے 10 سے زائد بم حملے ہوئے۔
بارکھان کے علاقے میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے کوئلے سے لوڈ ٹرک پر فائرنگ کرکے اس کے ٹائر برسٹ کردیئے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز دکی کے علاقے سے کوئلہ لیکر پنجاب جانے والے ٹرک پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے بارکھان کے علاقے چھپر میں فائرنگ کردی جس سے ٹرک کے ٹائر پھٹ گئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی اور کارروائی شروع کر دی۔
تربت کے علاقے جوسک میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر دستی بم پھینکا گیاجس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس ذرائع کے مطابق جوسک میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر دستی بم پھینکا گیا جو قریب ہی گر کر پھٹ گیا، تاہم اس سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل تعلیمی چوک میں فورسز کی چوکی پر بم پھینکا گیا جو دھماکے ساتھ پھٹ گیا، تاہم دونوں دھماکوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز بلوچستان بھر میں 10سے زائد بم حملے ہوئے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی روز میں 10 سے زائد بم دھماکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
اتوار کو کوئٹہ میں 3،تربت میں 2،جبکہ خضدار، حب، کوہلو، قلات،دکی ایک ایک بم دھماکہ ہوا جس کے بعد شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔
واضح رہے کہ 25 دسمبر یوم جناح اور کرسمس پر بلوچستان بھر میں سیکورٹی کے بھرپور اقدامات کیے گئے تھے لیکن یکے بعد دیگرے بلوچستان بھر میں دس دھماکوں کے بعد دارلحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سیکورٹی انتظامات سخت کردئیے گئے۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ شہر کی حساس عمارتوں اور مقامات کی سیکورٹی کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے شہر میں اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی پولیس، ایف سی سمیت سیکورٹی فورسز کے گشت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے اسنیپ چیکنگ کا عمل بھی شروع کردیا جبکہ چھوٹے بڑے شہروں کے داخلی و خارجی مقاما ت پر بھی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔
اتوار کے روز فورسز پر ہونے والے زیادہ ترحملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کرلی ہے۔