پاکستانی فورسز پر متعدد حملوں میں 28 اہلکارہلاک کردیئے گئے، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی پریس ریلیز میں بلوچستان کے مختلف علاقوں تربت، کاہان، گوادر، حب، خضدار، قلات اور کوئٹہ میں پاکستانی فورسز پر متعدد حملوں میں 28 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبل کرلی ہے۔

پچیس دسمبر کو جاری کردہ پریس ریلیز میں بی ایل اے ترجمان کا کہنا تھا کہ آج کوہلو کے علاقے کاہان میں چھپی کچ کے مقام پر دن ایک بجے کے قریب بلوچ لبریشن آرمی کی اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بناکر دشمن فوج کے ایک کیپٹن سمیت آٹھ دشمن اہلکارہلاک جبکہ تین زخمی کردیئے۔

سرمچاروں نے دشمن فوج کے قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ چھپی کچ کے مقام سے گذر رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں دشمن فوج کے کیپٹن فہد سمیت سپاہی اصغر، سپاہی شمعون، سپاہی مہران، لانس نائیک امتیاز و دیگر ہلاک جبکہ نائیک امین اللہ، شعیب اورشہباز زخمی ہوگئے۔

بلوچ لبریشن آرمی کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ کے سرمچاروں نے ایک اورحملے میں 24 دسمبر 2022 کی رات تربت میں گوکدان کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کرکے ایک جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت کم از کم سات اہلکاروں کو ہلاک کردیا جبکہ حملے میں چار دشمن اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

سرمچاروں نے دشمن پر اس وقت حملہ کیا جب قابض فوج کی نو گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ گوکدان کے علاقے سے گذر رہی تھی۔ حملے میں دشمن کے کم از کم تین گاڑیوں کو راکٹ گولوں اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

سرمچاروں کے اس مہلک حملے میں دشمن فوج کے جونیئر کمیشنڈ افسر صوبیدار اظہر سمیت سات اہلکار ہلاک اور مزید چار اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ دشمن کی دو گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

جبکہ گذشتہ شب ایک اور حملے میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے تربت کے ہی علاقے ہوشاپ میں دمب کے مقام پر قائم پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کردیا۔ حملے کے دوران، سرمچاروں نے متعدد راکٹ کے گولے داغے جو اپنے ہدف پر لگے جسے دشمن کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

گذشتہ رات ہی ایک مختلف حملے میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے گوادر کے علاقے دشت ساہیجی میں دورو کنڈگ کے مقام پر دشمن فوج کے ایک چیک پوسٹ پر گرنیڈ لانچر و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس میں دشمن کو شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

دریں اثناء سرمچاروں نے بلیدہ کے علاقے گِلی میں دشمن کے ایک اور پوسٹ پر گرنیڈ لانچر و دیگر ہتھیاروں سے حملہ کرکے کم از کم تین اہلکار زخمی کردیئے۔

تربت جوسک میں بھی سرمچاروں نے دشمن اہلکاروں کے ایک پوسٹ کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا جبکہ تربت ہی کے علاقے کہکن میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر بی ایم 12 کے گولے داغے جو کامیابی سے اپنے ہدف کو لگے۔

دریں اثناء آج کوئٹہ میں سبزل روڈ پر بلوچ سرمچاروں نے پولیس تھانے کے باہر تعینات اہلکاروں کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ میں ایک اور حملے میں سرمچاروں نے سیٹلائٹ ٹاؤن چالو بوڑی کے علاقے میں ناکہ لگائے دشمن اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ کردیا جس سے تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

دریں اثناء بی ایل اے کے سرمچاروں نے کوئٹہ سریاب روڈ پر دشمن اہلکاروں کے ایک پوسٹ کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، پوسٹ کے اندر دھماکے کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

حب میں سرمچاروں نے سی آئی اے پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے پر دستی بم حملہ کیا جبکہ ایک اور حملے میں حب میں آر سی ڈیشاہراہ پر گیٹرون کے مقام پر قائم دشمن کے ایک پوسٹ پر سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر سے گولے داغے، دھماکوں کے نتیجے میں دشمن اہلکاروں کو نقصانات اٹھانے پڑے۔

جبکہ خضدار شہر میں جیلانی چوک پر بی ایل اے کے سرمچاروں نے گاڑی میں سوار پولیس اہلکاروں کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا،دھماکے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ انکی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

مذکورہ اہلکاروں نے آج خضدار میں چیکنگ کے نام پر بلوچ عوام کی تذلیل کرتے ہوئے کئی افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ خضدارپولیس کے کئی اہلکار برائے راست قابض فوج کیساتھ بلوچ تحریک کے خلاف سرگرم ہیں جنہیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ یہ عمل ترک کردیں۔

دریں اثناء بی ایل اے کے سرمچاروں نے قلات آر سی ڈی شاہراہ پر بلوچ قومی معدنیات کو لیجانے والی ایک ٹرک کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ مذکورہ ٹرک کے ڈرائیوروں کو تنبیہ کرتے ہوئے رہا کردیا گیا۔

قبل ازیں مورخہ 17 نومبر 2022 اور مورخہ 29 نومبر 2022 کو کیچ کے علاقے کولواہ میں دشمن سے دو مختلف جھڑپوں میں، بلوچ سرمچاروں نے بہادری و جانفشانی سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ ان خونی مقابلوں میں بلوچ سرمچاروں نے دشمن کے کم از کم 13 اہلکار ہلاک و درجن بھر سے زائد زخمی کردیئے۔ جبکہ دشمن سے بہادری کیساتھ مقابلہ کرتے ہوئے 11 جانباز بلوچ سرمچاروں نے شہادت کے اعلیٰ مرتبت کا چناؤ کیا۔

دشمن سے پہلی مدبھیڑ کیچ کے علاقے کولواہ بلور میں 17 نومبر 2022 کو پیش آیا، جب قابض فوج نے ایک بڑی نفری کی مدد سیسرمچاروں کے مرکزی کیمپ کو گھیرنے کی کوشش کی، لیکن گشت پر معمور بلوچ لبریشن آرمی کے ایک دستے نے دشمن کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے ان پر حملہ کردیا۔ گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس بھاری جھڑپ میں دشمن کے پانچ اہلکار ہلاک و متعدد زخمی ہوگئے،جبکہ بہادری و جرأت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے، وطن کے دفاع میں بی ایل اے کے دو جانباز ساتھی یاسر عرف میرل اور زاہد عرف زبیر نے شہادت قبول کرلی۔

کولواہ ہی کے علاقے جت میں 29 نومبر 2022 کو قابض پاکستانی فوج نے زمینی و فضائی کمک کے ساتھ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں پر اس وقت حملہ کردیا، جب وہ علاقائی گشت و تنظیمی امور کے سلسلے میں ایک عارضی کیمپ میں موجود تھے۔ دوران گشت بلوچ سرمچاروں نے دو مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہوا تھا، جن سے تفتیش جاری تھی جبکہ اس دوران بی ایل اے کی ایک مذاکراتی ٹیم وہاں موجود تھی، جو بی ایل اے میں شمولیت اختیار کرنے والے نئے ساتھیوں سے گفت و شنید کررہے تھے۔

دشمن نے سرمچاروں پر حملے کا آغاز ڈرون حملے سے کیا، جس کے فوری بعد سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش میں دشمن فوج نے سرمچاروں اطراف کمانڈوز اتارنا شروع کردیئے۔ بلوچ سرمچاروں نے بہترین جنگی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے، جامع منصوبہ بندی کے تحت ٹکڑیوں میں تقسیم ہوکر مختلف اطراف سے دشمن فوج کے کمانڈوز پر حملہ کردیا۔ سرمچاروں نے اس دوران کم از کم 8 دشمن اہلکارہلاک و متعدد زخمی کرتے ہوئے، گھیرا توڑنے میں کامیاب ہوئے۔

دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے بی ایل اے کے چھ جانباز ساتھی جرأت و دلیری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے، دشمن کو شدید نقصانات سیدوچار کرنے کے بعد شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کرلیا۔ اس دوران سرمچار ساتھی نواز عرف فضل، رحمدل عرف واحد اور جلیل شیر عرف واجو کمبر نے گولیاں ختم ہونے کے بعد آخری گولی کے فلسفے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، اپنی آخری گولیوں سے اپنے ہاتھوں شہادت قبول کرلی۔

شہادت پانے والے ساتھیوں میں کیمپ کمانڈر جاوید عرف جلال ولد محمد عثمان سکنہ بالگتر، کیمپ کمانڈر عبدالصمد عرف قمبر ولد محمدحسین سکنہ کولواہ، کیمپ کمانڈر داد شاہ عرف وحید ولد نائب حاصل سکنہ شاپک کیچ شامل ہیں۔ مذکورہ تینوں ساتھی 2013 سے بلوچ وطن کی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد سے منسلک تھے اور دیدہ دلیری سے اپنے قومی فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

جبکہ دیگر ساتھیوں میں 2014 سے آزادی کی مسلح جدوجہد سے منسلک قمبر خان عرف سگار ولد محمد کریم سکنہ شہرک کیچ، 2019 سے مسلح محاذ سے منسلک نواز عرف فضل ولد سبزل سکنہ گردانک بلیدہ، حارث عرف ساوڈ ولد غلام علی سکنہ بالگتر، 2021 سے دشمنسے برسرپیکار رحمدل عرف واحد ولد عبدالوہاب سکنہ ہوشاپ، شعیب عرف عمران ولد میاں داد سکنہ کولواہ اور جلیل شیر عرف واجو قمبرولد شیر محمد سکنہ سندھ بازار ہوشاپ شامل ہیں۔

جلیل شیر نے 2009 کو ساتھی تنظیم کے پلیٹ فارم سے مسلح جہد کا آغاز کیا اور 2014 کو بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اس وقت وہ بطور کیمپ کمانڈر خدمات سرانجام دے رہا تھا جبکہ ان کا ایک بھائی عبداللہ عرف فراز بھی 2016 میں دشمن سے ایک مقابلے کے دوران شہادت قبول کرچکے ہیں۔

کولواہ بلور میں شہادت پانے والے ساتھیوں میں 2020 سے بلوچ وطن کی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد سے منسلک یاسر عرف میرل ولد واحدسکنہ دشت گوارگ باگ، کیچ اور 2021 سے برسرپیکار زاہد عرف زبیر ولد رئیس سکنہ بدولک کولواہ شامل ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی ان قومی شہیدوں کو شہادت کے عظیم مرتبت پر فائز ہونے پر عقیدت و احترام کے ساتھ مبارک پیش کرتی ہے اور اس عزم کا مسمم اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ شیر جوانوں کے پاک خون کا بدلہ محض بلوچ وطن کی مکمل آزادی ہوگی۔

Share This Article
Leave a Comment