نیپال میں قید بدنام زمانہ سیریل کِلر چارلس سوبھراج کو رہاکردیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read
فوٹو : اے ایف پی

نیپا ل میں قید بدنام زمانہ سیریل کِلر فرانسیسی شہری چارلس سوبھراج کو رہا کردیا گیا۔

چارلس سوبھراج سن ستّر اور اسّی کی دہائی میں ایشیا بھر میں 20 نوعمر مغربی سیاحوں کے قتل کے جرم کی سزا کاٹ رہے تھے۔

ان کے جرائم پر مبنی کتابوں اور نیٹ فلکس سریز کی وجہ سے ان کے ‘کارناموں ‘ سے ایک دنیا واقف ہے۔

نیپال کی سپریم کورٹ نے 78 سالہ سیریئل کلر چارلس سوبھراج کو عمر کی بنیاد پر بدھ کے روز جیل سے رہا کرنے اور ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔ وہ ‘دا سرپینٹ’ یعنی سانپ اور ‘بکنی کلر’ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

چارلس سوبھراج 1970اور 1980کی دہائی میں ایشیا بھر میں قتل کی کئی وارداتوں کے سلسلے میں جیل کی سز ا کاٹ رہے تھے۔ ایک امریکی اور ایک کنیڈیائی سیاح کے قتل کے جرم میں نیپال میں انہیں دو عمر قید کی سزائیں دی گئی تھیں۔

سوبھراج کے وکیل رام بندھو شرما نے بتایا، ”انہوں نے اپنی قید کی تقریباً 95 فیصد مدت جیل میں کاٹ لی ہے اور انہیں ان کی عمر کی وجہ سے رہا کیا جارہا ہے۔”

سپریم کورٹ کے ترجمان بمل باوڈیل نے بتایا، ”عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگر انہیں جیل میں رکھنے کی کوئی اور معقول وجہ نہ ہو تو انہیں رہا کردیا جائے اور 15 دنوں کے اندر اپنے وطن بھیج دیا جائے۔”

فرانسیسی شہری سوبھراج ماضی میں متعدد مغربی سیاحوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرچکے ہیں۔افغانستان، بھارت، تھائی لینڈ، ترکی، نیپال، ایران اور ہانگ کانگ میں قتل کی تقریباً 20 وارداتوں میں ان کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔

تھائی لینڈ کے پٹایا میں ایک ساحل پر سن 1970کی دہائی کے وسط میں چھ خواتین کو نشہ آور دوائیں دینے اور پھر ان کا قتل کردینے کے الزام میں ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔

ان کا پہلا قتل ایک نوجوان امریکی خاتون کا تھا جن کی بکنی پہنے ہوئے لاش پٹایا کے ساحل پر 1975 میں پائی گئی تھی۔ اس وقت سے ان کا نام ‘بکنی کلر’ پڑ گیا۔

سوبھراج سانپ کی طرح کینچلی بدل کر اپنی شناخت تبدیل کرنے میں ماہر تھے۔ یہی لقب بعد میں ان کی زندگی پر بنائی جانے والی نیٹ فلکس کی سریز ‘دا سرپینٹ’ میں عنوان کے طور پر استعمال کیا گیا، جو سن 2021 میں ریلیز ہوئی تھی۔

 سوبھراج ایک شکار کے بعد اپنی اگلی منزل تک جانے کے لیے اپنے مرد شکار کے پاسپورٹ کا بھی استعمال کیا کرتے تھے۔

سوبھراج کو 1976 میں بھارت میں گرفتار کیا گیا اور بالآخر انہوں نے وہاں 21 سال جیل میں گزارے۔ تاہم 1986 میں وہ جیل سے فرار ہو گئے لیکن بھارت کی ساحلی ریاست گوا میں پکڑ لیے گئے۔

سن 1997 میں وہ اپنی سزا کاٹ کر رہا ہوئے اور پیرس چلے گئے، سن 2003 میں انہیں نیپال میں دیکھا گیا جہاں پولیس نے انہیں پکڑ لیا۔ ان پر مقدمہ چلا اور عدالت نے انہیں 1975 میں امریکی سیاح کونی جو برونزِچ کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔ ایک دہائی بعد انہیں برونزِچ کے کینیڈین ساتھی کو قتل کرنے کا مجرم بھی پایا گیا۔

سن 2008 میں جیل میں سوبھراج نے نیہیتا بسواس سے شادی کی، جو ان سے 44 سال چھوٹی اور ایک نیپالی وکیل کی صاحب زادی ہیں۔

نیپال کے جیل کے ایک اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کوبتایا کہ سوبھراج کو ممکنہ طور پر جمعرات کے روز کٹھمنڈو کی سینٹرل جیل سے رہا کردیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رہا کرنے سے قبل رسمی انتظامی کارروائیوں کے لیے انہیں نچلی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سوبھراج کو مسلسل جیل میں رکھنا قیدی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سوبھراج کو اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت ہے اور ان کی رہائی قانون کے مطابق ہے جو ایسے بیمار قیدیوں کے ساتھ رحم دلی کی اجازت دیتا ہے، جو اپنی سزا کا تین چوتھائی حصہ پہلے ہی کاٹ چکے ہیں۔ ان کے دل کا 2017 میں پانچ گھنٹے طویل آپریشن ہوا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment