افغانستان: رہائش پذیر چینی سرمایہ کاروں کے ہوٹل پر حملہ، 3 ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چینی رہائش پذیرسرمایہ کاروں کے ہوٹل پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے جس سے کم از کم 3 افراد ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے بتایا کہ عینی شاہدین نے رپورٹ کیا کہ کئی دھماکے ہوئے اور بندوقوں سے بھی فائرنگ ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق کابل میں واقع کثیر المنزلہ ہوٹل لونگین سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا، طالبان سیکیورٹی فورسز فوری طوری پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور علاقے کو سیل کر دیا۔

دھماکے کی جگہ سے صرف ایک کلومیٹر دور ہسپتال چلانے والی اطالوی این جی او نے بتایا کہ ہسپتال میں 21 زخمیوں کو لایا گیا، جن میں 3 ہلاک افراد بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نہیں بتایا گیا کہ مرنے والے چینی شہری تھے یا حملوں میں ملوث تھے۔

کابل پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ تین حملہ آور مارے گئے ہیں جبکہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، انہوں نے شرپسند عناصر پر حملہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں بتایا کہ ہوٹل میں موجود تمام مہمانوں کو ریسکیو کر لیا ہے اور کوئی غیر ملکی ہلاک نہیں ہوا، صرف 2 غیر ملکی مہمان زخمی ہوئے ہیں، جو بلائی منزلوں سے کود گئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ ہوٹل چین کے کاروباری افراد میں بڑا مقبول ہے، جنہوں نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطرات کے باوجود بزنس کے پُرکشش مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے افغانستان کا دورہ کررہے ہیں۔

چین کی افغانستان کے ساتھ 76 کلومیٹر طویل سرحد ہے، تاہم بیجنگ نے اب تک طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا ہے لیکن ان ممالک میں شامل ہے، ان کی مکمل سفارتی موجودگی افغانستان میں موجود ہے۔

Share This Article
Leave a Comment