کیچ بار ایسوسی ایشن نے مکران و بلوچستان میں خودکشی کے واقعات کوباعث تشویش قرار دیدیاہے۔
کیچ بار ایسوسی ایشن کے رہنما عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ تربت سمیت مکران و بلوچستان و ملک بھر میں خودکشیوں کے واقعات باعث تشویش ہیں،تعلیم یافتہ، اسلامی و بلوچ معاشرے میں اس طرح کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں خودکشیوں کے واقعات کسی ایک واقعہ یا ایک وجہ سے نہیں ہوتے ہیں ان کے پیچھے کئی ایک وجوہات ہوتی ہیں ایک وکیل یا پولیس والے اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بچوں اور نوجوانوں کی ہمیشہ حوصلے افزائی اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی تربیت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں خودکشی حرام قرار دیا گیاہے اور قانوناً بھی جرم ہے کیا یہ خودکشی ہے یا قتل ہے یہ تو تفتیش کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک خودکشی ہے یا قتل ہے ایک قانون کے طالب علم کو خودکشی کے مضمون میں پڑھایا جاتا ہے اگر ایک شخص خدا نخواستہ خودکشی کرتاہے تو ایک کمرے کی چھت پر رسی باندھ کر خودکشی کرتا ہے اور جب اپنے پاؤں کے نیچے سے کرسی یا ٹیبل کو لات مارتا ہے انسان کو زندگی سے بہت زیادہ محبت ہے اور جب موت کو دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہاتھ اور پاؤں مارتا ہے تو دیواروں پر پاؤں کے نشانات ہوتے ماہر تفتیشی افسر جانتا ہے کہ یہ قتل ہے یا خودکشی اگر کسی شخص کو مارنا ہے تو اسے خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے خودکشیوں کے اصل وجوہات جاننے کے لیے تفتیش کی ضرورت ہے کہ اس کا تعلیمی سسٹم یا معاشرے کے طعنے یا اساتذہ یا والدین کی ڈانٹ ڈپٹ کا نتیجہ ہے اصل وجہ حکومت کو معلوم کرنا چاہیے۔