پاکستان کی بلوچ نسل کشی کے نت نئے حربے | رحیم بلوچ ایڈووکیٹ

0
278

تمدن اور تہذیبی ارتقاء کی عمل نے انسانی سماج کو جنگل اور حیوانی طرز زندگی سے بتدریج نکال کر متمدن معاشرتی زندگی گزارنے کی راہ پر ڈال دیا جس کے باعث آج انسان تمدن و ترقی کے اس مقام پر پہنچاہے کہ کرہ عرض پر پھیلے سینکڑوں ممالک نے، جن کے مفادات، ثقافتوں، معاشی و معاشرتی نظام، طرز حکومت اور طرز سیاست میں تفاوت و تضادات کے باوجود حقوق انسانی کے عالمی منشور کی صورت میں بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کے ایک عمومی معیار پر اتفاق کرکے شرف انسانیت کا اعتراف اور اس کی تحفظ کا واضح اقرار کرلیا ہے ۔حتیٰ کہ جنگ جیسے پُرتشدد عمل کےلئے بھی عالمی قوانین  موجود ہیں ان تمام قوانین میں عظمتِ انسانیت کو سرِفہرست رکھا گیا ہے۔ مسلح تنازعات اور جنگ کی حالت میں دشمن کے ہتھیار ڈالنے اور گرفتار ہونے والے جنگی قیدیوں اور زخمی فوجیوں سے سلوک، نہتے عام شہری افراد اورآبادیوں کی تحفظ سے متعلق فریقین کے دائرہ عمل و اختیار اور ذمہ داریوں کے حدود و قیود قوانین کی شکل میں منضبط کئے گے ہیں اور ان قوانین پر عملدآمد کی نگرانی، اطلاق، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے مرتکب مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سزا دینے کیلئے بین الاقوامی ادارے بھی بنائے گئے ہیں تاہم ان قوانین پر عملدآمد کی نگرانی اور نفاذ کے بین الاقوامی نظام میں بھی “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والی روش غالب نظر آتا ہے۔ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سزا دلوانے کے قوائد و ضوابط اور طریقہ ہائے کار اتنے پیچیدہ ہیں کہ کسی بھی خطہ میں کسی مسلح تنازع اور جنگ کی کمزور فریق کیلئے حقوق انسانی کو پامال کرنے و جنگی جرائم کے مرتکب مجرموں کو سزا دلوانا “جوئے شیر” لانے کے مترادف ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیاں پامال کرنے اور جنگی جرائم کے مرتکب مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا قانون سے زیادہ بڑی عالمی قوتوں کی رضا و دلچسپی کا محتاج  ہے اور بڑی طاقتوں کی دلچسپی اور کردار کا تعین عالمی قوائد و ضوابط اور بنیادی انسانی و جمہوری حقوق جیسے اعلیٰ و ارفع اقدار کے بجائے ان کے قومی و ریاستی مفادات سے ہوتا ہے اس لئے تو خفیہ اداروں کے اہلکار اور فوجی جرنیل مسلح تنازعات اور جنگوں میں بلا خوف بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ  بنیادی انسانی حقوق کو پامال اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جیسے کہ بلوچ قومی تحریک آزادی کو شکست دینے کیلئے پاکستان نہ صرف بڑے پیمانے پر بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کوپامال کر رہی ہے بلکہ تحریک آزادی کے خلاف اپنی حکمت عملی اور حربوں میں عالمی جنگی قوانین کوبھی مکمل نظر اندازکرتا آرہا ہے۔ نہ صرف پاکستان کے اندرانسانی حقوق کی تحفظ کیلئے سرگرم  تنظیمیں مقبوضہ بلوچستان میں فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بلوچ نسل کشی کی رپورٹنگ اور مذمت کرتے رہتے ہیں بلکہ پاکستان کی کمزور سیاسی جماعتیں، کھٹ پتلی حکومتیں اور “کینگرو کورٹس” بھی بعض اوقات یا تو ناقابل تردید ثبوت اور شواہد سے مجبور ہوکر یا پھر پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ اقتدار کی اندرونی رسہ کشی میں سودا بازی اور دبائو ڈالنے کی غرض سے فوج اور انٹلیجنس کے ہاتھوں مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی، بلوچوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم پر دھیمے لہجے میں تنقید کرتے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز گروپ، پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جیسے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جب حزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو وہ فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں ان کے رہنما جبری گمشدگی کے شکار بلوچوں کے لواحقین کی تنظیم “وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز” کےاحتجاجی کیمپ کا دورہ کرتے ہیں، ان سے اظہار ہمدردی اور ان کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں لیکن جیسے ہی فوج ان کے سر پر دست شفقت رکھ کر “جونیئر پارٹنر” کے طور پر شریک اقتدارکرتا ہے تو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے حقوق انسانی کی پامالی اور جنگی جرائم کے بارے میں ان کی پالیسی تبدیل ہوجاتی ہے وہ اپنے ماضی کے نعروں اور وعدوں کے مطابق مذکورہ جرائم کیلئے فوج اور انٹیلیجنس اداروں کو جوابدہ بنانے کے بجائے فوج کی جرائم کیلئے تاویلیں پیش کرنے، قانونی و سیاسی جواز فراہم کرنے کی کوششوں میں جُت جاتے ہیں، یا خاموشی و لاتعلقی اختیار کرتے ہیں یا پھرعوامی پریشر کم کرنے کیلئے بعض مواقع پر اپنی بے بسی کا اظہار بھی کرتے ہیں جیسے کہ میاں شہباز شریف وزیر اعظم بن جانے کے بعد جب پہلی بار کوئٹہ آئے تو ایک اجتماع سےاپنے خطاب کے دوران اس نے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر اپنے اتحادی جماعت بی این پی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس انسانی معاملے میں اپنی بےبسی اور بے اختیاری کا اظہار یہ کہہ کرکیا کہ “جبری گمشدگیوں کے مسئلہ پر میں آپ کی آواز میں آواز ملاکر با اختیار حکام سے بات کروں گا”۔حالانکہ آئین اورقانون کے مطابق بطور چیف ایگزیکٹو تمام مسلح افواج، انٹیلیجنس اورقانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے وزیر اعظم کے ماتحت ہیں پھر یہ بے بسی اور بے اختیاری کا کیسا واویلا؟ اقتدار میں بڑا حصہ پانے کی رسہ کشی اور اس رسہ کشی میں فوج پر دبائو ڈالنے کی غرض سے ریاست کے دوسرے ستونوں کا کبھی کبھارفوج کی بلوچستان پالیسی اور بلوچ نسل کشی پر نرم لہجہ میں تنقید سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان پر پاکستان کا نوآبادیاتی قبضہ جاری رکھنے اور بلوچ تحریک آزادی اور بلوچ قوم کو فوجی طاقت کے زور پر شکست دینے جیسے مقاصد کی حصول کیلئے بلوچ نسل کشی کی پالیسی پرپاکستان کے تمام ریاستی ستون فوج کی امامت میں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور فوج و انٹیلیجنس کی پوری طرح سے پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔

بلوچ قومی تحریک آزادی اور پاکستان کے مابین تصادم پر نظر رکھنے والے افراد اور ادارے یقیناً یہ مشاہدہ کرتے رہے ہونگے کہ بلوچ قوم اور تحریک آزادی کے خلاف پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی جنگی جرائم، حقوق انسانی کی پامالی اور سفاکیت کی حکمت عملی اور حربوں کو ریاست کے دوسرے ستونوں کی اس بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت اور کم عالمی توجہ پاکستان کے سفاک فوج اور خفیہ اداروں کیلئے حوصلہ افزائی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ خصوصاً عالمی اداروں اور قوتوں کی کم توجہ و عدم دلچسپی سے شہہ پا کر پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے مقبوضہ بلوچستان میں حقوق انسانی کی پامالی اور بلوچ نسل کشی میں روز بہ روز نہ صرف شدت لا رہے ہیں بلکہ بلوچ نسل کشی کے نت نئے حربے آزما رہے ہیں۔ بلوچ سرمچاروں کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج، انٹیلیجنس و دیگرسکیورٹی فورسز عالمی جنگی قوانین، معاہدات اور بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتے حتیٰکہ وہ اپنے ملکی آئین اورقوانین کا بھی کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ سرمچار ہونے کی شک میں نوجوانوں کو جبری اٹھاکر لاپتہ کیا جاتا ہے، سرمچاروں کا حامی ہونے کے الزام میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پوری آبادی پر اندھادھند شیلنگ کیا جاتا ہے، خواتین و بچوں سمیت سب کو حراست میں لینے جیسا اجتماعی سزا عام ہے، فوجی آپریشنزکے دوران لوگوں کے قیمتی زیورات اور مال مویشیوں کو لوٹنا، گھاس پھوس سے بنے گھروں و گدانوں کو جلانا، گارے کے بنے گھروں کو بم سے اُڑانا پاکستانی فوج کا معمول ہے بیشتر علاقوں میں پوری پہاڑی اور دیہی آبادیوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ سرمچاروں کو الگ تھلگ کیا جاسکے۔ سرمچاروں کے رشتہ داروں کو جبری لاپتہ و ماورائے عدالت قتل کرنا بھی عام ہے نوجوانوں بالخصوص طلباء کو حراساں کرنا، محض بلوچی لباس اور فیشن کی بنیاد پر بلوچ نوجوانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا، ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا سکیورٹی اداروں کی باقاعدہ پالسی ہے بلوچ سرمچاروں کا مقابلہ کرنے اور آزادی خُواہ بلوچ سیاسی و طلباء تنظیموں کے رہنمائوں، کارکنوں اور حمایتیوں کو ماورائے عدالت اٹھانے اورقتل کرنے میں فوج اور انٹیلیجنس کی مدد کیلئے نجی مسلح جتھے تشکیل دیئے گئے ہیں جن کو مذہبی نعروں کے ذریعے برین واش کرکے یا پھر رہزنی، ڈکیتی، بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضہ کرنے کی کھلی چھوٹ دے کر انھیں فوج و انٹیلیجنس کے شانہ بشانہ استعمال کیا جاتا ہے ان مسلح جتھوں کو دہشتگردی سمیت ہر قسم کے معاشرتی جرائم کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں سے ہزاروں بلوچ فرزندوں کو گرفتاری کے بعد کسی عدالت میں پیش کرنےاور انھیں اپنے دفاع کا قانونی موقع دینے کے بجائے ان کو غیر معینہ مدت کیلئے جبری لاپتہ کرنا، انھیں زیر حراست قتل کرکے ان کی لاشوں کو پھینکنا یا اجتماعی قبروں میں دفنانا ایسے حربے ہیں جو پاکستانی فوج اب تک کھلے عام بلوچ تحریک آزادی اور نہتے بلوچ عوام کے خلاف استعمال کرتی آرہی ہے پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس کی اس سفاکیت  کے خلاف بلوچ عوام اور انسانی حقوق کی علاقائِی اور عالمی تنظیمیں اکثرآواز اٹھاتی رہی ہیں۔ بلوچ قومی تحریک آزادی اور بلوچ عوام کے خلاف پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی جبری گمشدگیوں اور “مارو اور پھینک دو” کی پالیسی اتنی زیادہ بدنام ہوگئی ہے کہ اس کے خلاف نہ صرف پاکستانی سیاسی جماعتیں اور عدلیہ بھی اپنی ضرورتوں کے تابع وقتاً فوقتاً لب کشائی کرتے رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر امریکہ  سمیت کئی ممالک اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے بھی انسانی حقوق پر اپنے رپورٹس میں ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں

پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس بلوچستان پر اپنا جبری قبضہ جاری رکھنے کیئلے اب بھی جبری گمشدگیوں سمیت اوپر کے پیراگراف میں مذکوردوسرے تمام انسانیت سوز حربے بدستوربلوچ تحریک آزادی اور بلوچ قوم کے خلاف استعمال کررہے ہیں تاہم “مارو اور پھینک دو kill and dump” کی وحشیانہ  پالیسی کے ساتھ ساتھ جعلی مقابلوں کی صورت میں ماورائے عدالت قتل کا ایک نیا حربہ بڑے پیمانے پراستعمال کرنے لگے ہیں جس کے تحت فوج، انٹیلیجنس اہلکار اور ان کے ڈیتھ اسکواڈز کے کارندے بلوچ فرزندوں کواٹھاتے ہیں جنھیں فوج و انٹیلیجنس کے اذیت گاہوں میں لاپتہ رکھا جاتا ہے  پھرکسی موقع پر “جعلی مقابلہ fake encounter ” میں انھیں قتل کیا جاتا ہے۔ جعلی مقابلے کا ڈرامہ عموماً ایسے مواقع پر رچایا جاتا ہے جب سرمچارکسی حملے میں فوج، ایف سی یا دیگر سکیورٹی فورسز کو کاری ضرب لگاتے ہیں یا پھرسرمچاروں کے خلاف کوئی بڑی فوجی آپریشن جب ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔

جعلی مقابلوں کے اولذکر صورت میں عموماً زیر حراست افراد کوماورائے عدالت قتل کیلئے سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے جو قیدیوں کو شہید کرکے کسی کاروائی میں مقابلے کا جھوٹا دعویٰ کرلیتا ہے جبکہ دوسری صورت میں پاکستانی فوج کا ترجمان آئی ایس پی آرایک جھوٹا بیان جاری کرکے جعلی مقابلے میں مارے گئے بلوچ فرزندوں کو سرمچار ظاہر کرکے ان کی حراستی  قتل کو آپریشن کے دوران مقابلے میں مارا جانا ظاہر کرتا ہے۔ 12 جولائِی 2022 کو جب بی ایل اے نے زیارت سے مرزا لئیق بیگ نامی ایک کرنل اور اس کے ایک رشتہ دار کو اغواء کیا تو فوج نے فوراً ایک بڑا آپریشن شروع کیا، جب آپریشن میں اسے کوئی کامیابی نہ ملی تو 16 جولائی 2022 کو 11 لاپتہ بلوچ فرزندوں کو ایک جعلی مقابلہ میں زیرحراست شہید کرکے ان کی خون ناحق کوفوجی آپریشن میں مقابلے میں مارا جانا ظاہر کیا مگر اس جھوٹ کی قلعی جلد کھل گئی جب سارے شہداء لاپتہ افراد ثابت ہوئے جنھیں مختلف اوقات میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیاگیا تھا۔ زیارت قتل عام کےخلاف جبری لاپتہ بلوچوں کے لوحقین نے کوئٹہ میں کھٹپتلی گورنر اور وزیراعلیٰ کے رہائش گاہوں کے سامنے دھرنا دیا۔ پولیس کی تشدد، ڈیتھ اسکواڈ کے ڈرانے دھمکانے اور شدید بارشوں کے باوجود جب دھرنے پر بیٹھے بلوچوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا تو آخرکار پاکستان کے وزراء وزیرقانون نزیر تارڑ اور آغا حسن بلوچ{ بی این پی کے رہنما} کی قیادت میں جبری گمشدگیوں سے متعلق پاکستان کی نام نہاد وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ایک وفد 8 ستمبر2022 کو دھرنے پر بیٹھے افراد کے پاس گیا اور انھیں یقین دہانی کرائی کہ دو ماہ کے اندر جبری لاپتہ بلوچوں کا مسئلہ حل کرکے انھیں رہا یا عدالتوں میں پیش کیا جائیگا مگر حسب سابق وزراء کی یقین دہانی اور وعدے جلد ہی فریب نظر آنے لگے جب دھرنا ختم ہونے کے چند دن بعد سی ٹی ڈی نے ڈومبکی قبیلہ کے دو زیرحراست افراد کو ایک جعلی مقابلہ میں شہید کیا ابھی اس واقع کی مذمت جاری تھا کہ 6 لاپتہ افراد کو سی ٹی ڈی نے مستونگ کے علاقہ کابو میں ایک جعلی مقابلے میں قتل کیا جن میں 7 سال سے جبری لاپتہ حبیب الرحمٰن لانگو،جس کی جبری گمشدگی کا ایف آئِی آر کیچی بیگ تھانہ کوئٹہ میں درج ہے، اورعبداللٰہ ساتکزئی جو چار سال سے لاپتہ تھا شامل ہیں اس جعلی مقابلے کے اگلے روز سی ٹی ڈی نے چار لاپتہ بلوچ فرزندوں کو نوشکی میں شہید کرکے ان کی شہادت کو خاران میں پولیس مقابلہ ظاہر کیا ان شہداء میں 9 جون 2021 کوخضدار سے گرفتاربراہوئی زبان کا معروف نوجوان شاعر تابش وسیم بلوچ بھی شامل تھا۔ شہید تابش وسیم کے والد کے بقول ان کے بیٹے کا قصور محض یہ تھا کہ اس نے جبری گمشدگی جیسے جرم کے خلاف چند اشعار لکھے تھے۔ اسی طرح 30 اکتوبر 2022 کونوغے خضدار کے رہائشی عبدالمنان ولد محمد موسیٰ عمرانی اور اس کا بھانجا سرفراز ولد نیاز احمد فیروز آباد سے خضدار آتے ہوئے لاپتہ ہوئے ایک ہفتہ تک ان کا کچھ پتا نہ چلا۔ ایک ہفتہ بعد ان کے گھر والوں کو پتہ چلا کہ انھیں ایف سی نے گرفتار کرکے لاپتہ کیا ہے جس پر ان کے گغر والوں نے معاملے کو سوشل میڈیا پر اٹھایا اور زندگی کے ہر شعبے سے افراد اور تنظیمیں فوج اور خفیہ اداروں کو لعنت ملامت کرنے لگے تو 9 اکتوبر کو سی ٹی ڈی پولیس کوئٹہ نے ایک جھوٹے دعوے میں منان اور سرفراز کو کوئٹہ کے نذدیک اسلحہ سمیت گرفتار کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا اور منان کے چند ویڈیو کلپ میڈیا میں شائع کئے جن میں وہ بہت ڈرا ہوا اور ایک رٹے رٹائے جھوٹی کہانی کا اسکرپٹ پڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے جسے پولیس اعتراف جرم بتا رہے ہے حالانکہ کوئی بھی قانون اور مہذب معاشرہ پولیس کی حراست میں پولیس کو دی گئی اعتراف جرم کو ثبوت نہیں مانتے کیونکہ یہ رضاکارانہ عمل نہیں ہوتا۔ کسی عدالت میں ثابت کرنے سے پہلے ایسے ویڈیو کا میڈیا میں شائع کرنا سوائے ان کے خاندان پر دبائو ڈالنے اور زیرحراست افراد کی تذلیل اور میڈیا ٹرائل کے اور کوئی حیثیت نہیں مگر پاکستانی عدلیہ کو قانون کی کیا دُہائی دینا؟ مقبوضہ بلوچستان پرریاست پاکستان جبری قبضہ سے لے کر ہر عمل عالمی قانون، انسانی حقوق، آزادیوں اور انسانیت کی توہین ہے۔

جبری لاپتہ بلوچ فرزندوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے اور ان کی لاشوں کو پھینکنے کی”Kill and dump ” پالیسی کے خلاف جب مقبوضہ بلوچستان اور عالمی سطح پر پاکستان پہ تنقید بڑھ گئی تو ماورائے عدالت قتل کاایک نیا حربہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ انھیں کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں لے جاکر جعلی پولیس مقابلوں میں شہید کیا جاتا ہے یا پھر پنجاب میں قتل کرکے ان کے لاشوں کولاوارث پھینک دی جاتی پے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ قتل سے قبل شہداء کے اہم جسمانی اعضا کو نکال دیا جاتا ہے۔ کئی برس پہلے ایک عالمی ادارہ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس لاپتہ افراد کے “حیات بخش” اعضاء کو نکال کر سمگل کرتے ہیں 13 ستمبر 2022 کو ملتان کی نشتر اسپتال کے چھت پر پانچ سو سے زائد لاشوں کا انکشاف ہوا اور چھت پر پڑے لاشوں کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں نظر آنے والی لاشوں کی بھاری اکثریت اپنے کپڑوں اور حلیہ سے بلوچ لگتے تھے باقی پختون اور دوسرے اقوام سے لگتے تھے۔ اس انسانیت سوز واقعہ کی منظرعام پرآنے کے بعد قیامت صغریٰ برپا ہوتا اگر یہ واقعہ پاکستان جیسے دہشتگرد ملک کی بجائَے کسی مہذب ملک میں ہوتا مگر پاکستان کی حکومت، عدلیہ اور میڈیا نے مل کر اسے دبا دیا اور بلوچ اور پشتون نسل کشی میں فوج و خفیہ اداروں کے ساتھ معاون ہونے کا ثبوت دیا۔

***

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here