یوکرین میں 1 لاکھ سے زائد روسی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے، جنرل مارک ملی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی نے کہا کہ یوکرین میں روس کو بڑا نقصان ہوا ہے اور اس تنازع میں اب تک روس کے ایک لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا یوکرین کی مسلح افواج کو بھی شاید اسی سطح کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جنرل مارک ملی نے بدھ کے روز نیویارک اکنامک کلب سے گفتگو میں کہا ہے کہ آپ ایک لاکھ سے زیادہ روسی فوجیوں کو دیکھیں جو ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ شاید یوکرین کی طرف بھی ایسا ہی ہے۔ وہاں بہت زیادہ انسانی مصائب کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فروری میں روسی جارحیت شروع ہونے کے بعد سے اس تنازعے میں 40,000 یوکرینی شہری مارے جا چکے ہیں۔

بدھ کے روز روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اپنی افواج کو دریائے دنیپرو کے مغربی کنارے سے انخلا اور جنوبی یوکرین کے شہر کھیرسن کے قریب یوکرین کے حملوں کا سامنا نہ کرنے کا حکم دیا۔ روسی فوج کی دستبرداری کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی نے کھیرسن میں اپنے 4 فوجی محکمے قائم کرنے کی ہدایت کردی۔

مبصرین نے اسے روس کے سب سے بڑے انخلاء سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ انخلا 9 ماہ سے جاری جنگ میں ایک اہم موڑ بن سکتا ہے۔

روسی افواج کے کمانڈر انچیف جنرل سرگئی سرووکن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ کھیرن شہر کو رسد پہنچانا اب ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے دریا کے مشرقی کنارے پر دفاعی خطوط قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

یہ خبر شہر پر یوکرین کی کئی ہفتوں کی پیش قدمی اور اس کے ایک لاکھ سے زیادہ مکینوں کو ملک بدر کرنے کی روس کی کوششوں کے بعد سامنے آئی۔

Share This Article
Leave a Comment